Tuesday, February 1, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:2208


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مساقات کا بیان
باب
نہروں سے آدمی اور چوپایوں کے پانی پینے کا بیان۔
حدیث نمبر
2208
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلُ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ وَعَلَی رَجُلٍ وِزْرٌ فَأَمَّا الَّذِي لَهُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَطَالَ بِهَا فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ فَمَا أَصَابَتْ فِي طِيَلِهَا ذَلِکَ مِنْ الْمَرْجِ أَوْ الرَّوْضَةِ کَانَتْ لَهُ حَسَنَاتٍ وَلَوْ أَنَّهُ انْقَطَعَ طِيَلُهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ کَانَتْ آثَارُهَا وَأَرْوَاثُهَا حَسَنَاتٍ لَهُ وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَمْ يُرِدْ أَنْ يَسْقِيَ کَانَ ذَلِکَ حَسَنَاتٍ لَهُ فَهِيَ لِذَلِکَ أَجْرٌ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا تَغَنِّيًا وَتَعَفُّفًا ثُمَّ لَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي رِقَابِهَا وَلَا ظُهُورِهَا فَهِيَ لِذَلِکَ سِتْرٌ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِيَائً وَنِوَائً لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ فَهِيَ عَلَی ذَلِکَ وِزْرٌ وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحُمُرِ فَقَالَ مَا أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهَا شَيْئٌ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةُ الْجَامِعَةُ الْفَاذَّةُ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ
عبد ﷲ بن یوسف، مالک بن انس، زید بن اسلم، ابوصالح، سمان، ابوہریرہ سے روایت ہے، کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ گھوڑا ایک شخص کے لئے ثواب کا باعث ہے، اور ایک شخص کے لئے بچاؤ کا ذریعہ ہے، اور کسی کے لئے گناہ کا سبب ہے، باعث ثوا ب اس شخص کیلئے ہے جس نے گھوڑا ﷲ کی راہ میں باندھا، اور اس کی رسی باغ یا چراگاہ میں دراز کر دی جس قدر وہ باغ یا چراگا میں چرے گا، اسی قدر اس کو ثواب ملے گا، اور اگر اس کی رسی ٹوٹ جائے، اور ایک بلندی یا دو بلندی پھاندے تو اس کے ہر قدم اور لید پر اس کو ثواب ملے گا اور اگر وہ نہر کے پاس سے گزرے، اور اس سے پانی پی لے، اگر چہ اس کے پانی پلانے کا ارادہ نہ ہو، تو اس پر نیکیاں ملیں گی، اسی لئے یہ اس کے لئے اجر کا سبب ہے، اور وہ شخص جو اس کی مالداری کی وجہ سے اور سوال سے بچنے کیلئے باندھے اور اس کی گردن اور اس کی پیٹھ کے متعلق ﷲ تعالی نے جو حق مقرر کیا ہے، اس کو نہ بھولے تو اس کے لئے بچاؤ کا ذریعہ ہے، اور جو شخص اس کو فخر و ریا کی وجہ سے یا اہل اسلام کے متعلق مجھ پر کوئی آیت نہیں اتری بجز اس جامع اور بے مثل آیت کے (فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ) الخ جو شخص ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اس کو دیکھ لے گا، اور جو شخص ذرہ برابر برائی کرے گا، وہ اس کو دیکھ لے گا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment