کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
جاہلیت کی طرح گفتگو کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر
3270
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ ثَابَ مَعَهُ نَاسٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ حَتَّی کَثُرُوا وَکَانَ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلٌ لَعَّابٌ فَکَسَعَ أَنْصَارِيًّا فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ غَضَبًا شَدِيدًا حَتَّی تَدَاعَوْا وَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا بَالُ دَعْوَی أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ قَالَ مَا شَأْنُهُمْ فَأُخْبِرَ بِکَسْعَةِ الْمُهَاجِرِيِّ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهَا فَإِنَّهَا خَبِيثَةٌ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ أَقَدْ تَدَاعَوْا عَلَيْنَا لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَی الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ فَقَالَ عُمَرُ أَلَا نَقْتُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْخَبِيثَ لِعَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّهُ کَانَ يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ
محمد مخلد ابن جریج عمر بن دینار حضرت جابر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ہم (ایک مرتبہ) رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد میں تھے اتفاق سے مہاجرین میں سے کچھ لوگ برافروختہ ہو گئے (جس کی یہ وجہ ہوئی کہ) مہاجرین میں سے ایک شخص ظریف الطبع تھے ایک انصاری کی پیٹھ پر انہوں نے (مذاق سے) ایک تھپڑ کھینچ مارا جس سے انصاری کو غصہ آ گیا یہاں تک کہ ان لوگوں نے باہم (اپنے اپنے لوگوں کو) بلایا انصاری نے کہا! اے انصار! مدد کو پہنچو! اور مہاجر نے کہا! اے مہاجرین مدد کو پہنچو! (یہ سن کر) آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جاہلیت کی طرح کیوں پکار ہوئی پھر فرمایا! ان لوگوں کی یہ حالت کیوں ہوئی پس حضور صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے مہاجر کے انصاری کو تھپڑ مارنے کی کیفیت بیان کی گئی جابر کہتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس طرح کی پکار چھوڑ دو یہ بری بات ہے اور عبد ﷲ بن ابی بن سلول منافق نے کہا ان مہاجرین نے ہم سے فریاد رسی چاہی تھی اگر ہم مدینہ لوٹ کر گئے تو جو ہم میں زیادہ عزت والا ہو گا وہ کمزور کو نکال باہر کرے گا اس پر حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ ہم اس خبیث کو قتل کیوں نہ کر دیں؟ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا! ایسا نہ کرو ورنہ یہ لوگ چرچا کریں گے کہ محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment