کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اجازت لینے کا بیان
باب
کسی کو تکیہ دئیے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر
5860
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا خَالِدٌ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الْمَلِيحِ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِيکَ زَيْدٍ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُکِرَ لَهُ صَوْمِي فَدَخَلَ عَلَيَّ فَأَلْقَيْتُ لَهُ وِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَجَلَسَ عَلَی الْأَرْضِ وَصَارَتْ الْوِسَادَةُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَقَالَ لِي أَمَا يَکْفِيکَ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ خَمْسًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ سَبْعًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ تِسْعًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِحْدَی عَشْرَةَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ شَطْرَ الدَّهْرِ صِيَامُ يَوْمٍ وَإِفْطَارُ يَوْمٍ
اسحق، خالد، عبد ﷲ بن محمد، عمر بن، خالد، ابوقلابہ، ابوا لملیح سے روات کرتے ہیں کہ میں تیرے والد زید کے ساتھ عبد ﷲ بن عمر کے پاس گیا تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے میرے روزے کے متعلق کہا گیا، تو آپ میرے پاس تشریف لائے میں نے آپ کے سامنے ایک تکیہ ڈال دیا، جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی آپ زمین پر بیٹھ گئے اور تکیہ میرے اور آپ کے درمیان تھا پھر آپ نے مجھ سے فرمایا کہ کیا تجھ کو مہینہ میں تین روزے کافی نہیں ہیں- میں نے کہا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم (مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے) آپ نے فرمایا تو پانچ، میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم (مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے) آپ نے فرمایا تو نو میں نے کہا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم (مجھے اس سے زیادہ طاقت ہے) آپ نے فرمایا گیارہ، میں نے کہا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم (مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے) آپ نے فرمایا کہ داؤد علیہ السلام کے روزوں سے زیادہ کوئی روزہ نہیں اس طور پر کہ ایک دن روزہ رکھے، اور ایک دن افطار کرے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment