کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
اس باب میں کوئی عنوان نہیں۔
حدیث نمبر
708
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی صَلَاةَ الْکُسُوفِ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوعَ ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوعَ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوعَ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوعَ ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ قَدْ دَنَتْ مِنِّي الْجَنَّةُ حَتَّی لَوْ اجْتَرَأْتُ عَلَيْهَا لَجِئْتُکُمْ بِقِطَافٍ مِنْ قِطَافِهَا وَدَنَتْ مِنِّي النَّارُ حَتَّی قُلْتُ أَيْ رَبِّ وَأَنَا مَعَهُمْ فَإِذَا امْرَأَةٌ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ تَخْدِشُهَا هِرَّةٌ قُلْتُ مَا شَأْنُ هَذِهِ قَالُوا حَبَسَتْهَا حَتَّی مَاتَتْ جُوعًا لَا أَطْعَمَتْهَا وَلَا أَرْسَلَتْهَا تَأْکُلُ قَالَ نَافِعٌ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ مِنْ خَشِيشِ أَوْ خَشَاشِ
ابن ابی مریم، نافع بن عمر، ابن ابی ملیکہ، اسماء بنت ابی بکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نماز کسوف پڑھنے کھڑے ہوئے تو آپ نے طویل قیام کیا، پھر طویل رکوع کیا، اس کے بعد قیام کیا اور قیام کو بھی طویل کیا، پھر رکوع کیا اور رکوع کو (بھی) بڑھایا، پھر سر اٹھایا اس کے بعد (دوسرا) سجدہ کیا اور اس (سجدہ) کو (بھی) بڑھایا پھر دوسرا سجدہ کیا پھر (دوسری رکعت کے لئے) آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے قیام کو بڑھایا اس کے بعد رکوع کیا اور رکوع کو بڑھایا، پھر سر اٹھا کر طویل قیام کیا پھر رکوع کیا اور رکوع کو بڑھایا پھر سر اٹھا کر سجدہ کیا، سجدے کو (بھی) بڑھایا اس کے بعد پھر سر اٹھایا تو (دوسرا) سجدہ کیا، اور اس سجدے کو (بھی) بڑھایا اس کے بعد آپ نے (نماز) سے فراغت حاصل کی اور فرمایا کہ (اس وقت) جنت میرے اتنے قریب ہو گئی تھی کہ اگر میں چاہتا تو اس کے خوشوں میں سے کوئی خوشہ تمہارے پاس لے آتا اور دوزخ بھی میرے اتنے قریب ہو گئی تھی کہ میں کہنے لگا کہ اے میرے پروردگار! کیا میں ان لوگوں کے ہمراہ رکھا جاؤں گا- یکایک ایک عورت (نظر آئی) مجھے خیال ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اس کو ایک بلی پنجہ مار رہی تھی، میں نے کہا اس کا کیا حال ہے؟ لوگوں نے کہا کہ اس نے بلی کو پال رکھا تھا نہ اس کو کھلاتی تھی اور نہ اس کو چھوڑتی تھی تاکہ وہ (ازخود) کچھ کھالے، نافع کی روایت میں اس طرح ہے کہ (نہ اس کو چھوڑتی تھی) تاکہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا کر (اپنا پیٹ بھرے)
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment