Saturday, January 1, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1712


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
عمرہ کا بیان
باب
حرم کا درخت نہ کا ٹا جائے۔
حدیث نمبر
1712
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَی مَکَّةَ ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْکَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْغَدِ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ فَسَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَکَلَّمَ بِهِ إِنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ مَکَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِکَ بِهَا دَمًا وَلَا يَعْضُدَ بِهَا شَجَرَةً فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُولُوا لَهُ إِنَّ اللَّهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَأْذَنْ لَکُمْ وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ کَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ وَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ مَا قَالَ لَکَ عَمْرٌو قَالَ أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِکَ مِنْکَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ إِنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِخُرْبَةٍ خُرْبَةٌ بَلِيَّةٌ
قتیبہ، لیث، سعید بن ابی سعید مقبری، ابوشرح، عدوی روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عمرو بن سعید سے جب کہ وہ مکہ میں فوجیں بھیج رہا تھا- کہا اے امیر! مجھے اجازت دیں تو میں آپ سے وہ قول بیان کروں جو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن فرمائے تھے، اس کو میرے دونوں کانوں نے سنا اور قلب نے اس کو محفوظ رکھا، جب کہ آپ نے گفتگو فرمائی ﷲ کی حمد و ثناء کی اور فرمایا کہ مکہ کو ﷲ نے حرام کیا ہے لوگوں نے اس کوحرام نہیں کیا اس لئے کسی شخص کے لئے جو ﷲ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو جائز نہیں کہ وہاں خونریزی کرے اور نہ وہاں درخت کاٹا جائے اور اگر کوئی شخص نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے جنگ کے سبب سے اس کی اجازت سمجھے تو اس کو کہو کہ ﷲ تعالی نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو اجازت دی تھی لیکن تمہیں اجازت نہیں ہے اور اس کی اجازت دن کے تھوڑے حصہ کے لئے تھی، پھر اس کی حرمت ویسے ہی ہو گئی جیسے کل حرمت تھی، ابن شریح سے پوچھا گیا کہ عمرو نے آپ سے کیا کہا، کہا کہ اے ابوشریح میں تجھ سے زیادہ اس کو جانتا ہوں نافرمان کو قتل کر کے بھاگنے والے اور فساد کر کے بھاگنے والے کو پناہ نہیں دیتا، خربہ سے مراد بلیہ یعنی فتنہ فساد ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment