Saturday, January 1, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1713


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
عمرہ کا بیان
باب
حرم کا شکار نہ بھگایا جائے۔
حدیث نمبر
1713
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَکَّةَ فَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ لَا يُخْتَلَی خَلَاهَا وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُعَرِّفٍ وَقَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا الْإِذْخِرَ لِصَاغَتِنَا وَقُبُورِنَا فَقَالَ إِلَّا الْإِذْخِرَ وَعَنْ خَالِدٍ عَنْ عِکْرِمَةَ قَالَ هَلْ تَدْرِي مَا لَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا هُوَ أَنْ يُنَحِّيَهُ مِنْ الظِّلِّ يَنْزِلُ مَکَانَهُ
محمد بن مثنی، عبدالوہاب، خالد، عکرمہ، ابن عباس رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ﷲ تعالی نے مکہ کو حرام کیا- نہ تو ہم سے پہلے کسی کے لئے حلال تھا اور نہ میرے بعد کسی کے لئے حلال ہوگا اور میرے لئے صرف دن کے ایک حصہ میں حلال کیا گیا- وہاں کی گھاس نہ اکھاڑی جائے وہاں درخت نہ کاٹا جائے، اور نہ وہاں کا شکار بھگایا جائے اور نہ وہاں کی گری پڑی چیز کوئی اٹھائے مگر تشہیر کرنے والا اٹھا سکتا ہے حضرت عباس نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم اذخر کی اجازت ہمارے سناروں اور ہماری قبروں کے لئے دیجئے- آپ نے فرمایا کہ سوائے اذخر کے، خالد، عکرمہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ شکار بھگا لے جانے کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ سایہ سے اس کو بھگائے اور خود اس جگہ پر اترے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment