حَدَّثَنَا عُثْمَانُ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْقِتَالُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّ أَحَدَنَا يُقَاتِلُ غَضَبًا وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً فَرَفَعَ إِلَيْهِ رَأْسَهُ قَالَ وَمَا رَفَعَ إِلَيْهِ رَأْسَهُ إِلَّا أَنَّهُ کَانَ قَائِمًا فَقَالَ مَنْ قَاتَلَ لِتَکُونَ کَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
عثمان، جریر، منصور، ابو وائل، ابوموسی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا یا رسول ﷲ ، ﷲ کی راہ میں لڑنے کی کیا صورت ہے؟ اس لئے کہ کوئی ہم میں سے غصہ کے سبب لڑتا ہے، کوئی حمیت کے سبب سے جنگ کرتا ہے، پس آپ نے اپنا سر مبارک اس کی طرف اٹھایا اور آپ نے سر اسی سبب سے اٹھایا کہ وہ کھڑا ہوا تھا، پھر آپ نے فرمایا جو شخص اس لئے لڑے کہ ﷲ کا کلمہ بلند ہوجائے تو وہ ﷲ کی راہ میں (لڑنا) ہے
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = علم کا بیان
باب = اس شخص کا بیان جو کھڑے کھڑے کسی بیٹھے ہوئے عالم سے سوال کرے۔
جلد نمبر 1
حدیث نمبر 123
عثمان، جریر، منصور، ابو وائل، ابوموسی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا یا رسول ﷲ ، ﷲ کی راہ میں لڑنے کی کیا صورت ہے؟ اس لئے کہ کوئی ہم میں سے غصہ کے سبب لڑتا ہے، کوئی حمیت کے سبب سے جنگ کرتا ہے، پس آپ نے اپنا سر مبارک اس کی طرف اٹھایا اور آپ نے سر اسی سبب سے اٹھایا کہ وہ کھڑا ہوا تھا، پھر آپ نے فرمایا جو شخص اس لئے لڑے کہ ﷲ کا کلمہ بلند ہوجائے تو وہ ﷲ کی راہ میں (لڑنا) ہے
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = علم کا بیان
باب = اس شخص کا بیان جو کھڑے کھڑے کسی بیٹھے ہوئے عالم سے سوال کرے۔
جلد نمبر 1
حدیث نمبر 123
No comments:
Post a Comment