Saturday, October 2, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:126

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْأَسْوَدِ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ الزُّبَيْرِ کَانَتْ عَائِشَةُ تُسِرُّ إِلَيْکَ کَثِيرًا فَمَا حَدَّثَتْکَ فِي الْکَعْبَةِ قُلْتُ قَالَتْ لِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ لَوْلَاأَنْ  قَوْمَکِ حَدِيثُ عَهْدِهِمْ قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِکُفْرٍ لَنَقَضْتُ الْکَعْبَةَ فَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ بَابٌ يَدْخُلُ النَّاسُ وَبَابٌ يَخْرُجُونَ مِنْهُ فَفَعَلَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ

عبید ﷲ بن موسی، اسرائیل، ابواسحق اسود کہتے ہیں کہ مجھ سے ابن زبیر نے کہا کہ عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا اکثر تم سے راز کی باتیں کہا کرتیں تھیں، تو بتاؤ کہ کعبہ کے بارہ میں تم سے انہوں نے کیا حدیث بیان کی ہے؟ میں نے کہا مجھ سے انہوں نے کہا تھا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ اگر تمہاری قوم (جاہلیت سے) قریب العہد نہ ہوتی، ابن زبیر کہتے ہیں کہ کفر سے (قریب العہد ہونا مراد ہے) تو میں بے شک کعبہ کو توڑ کر اس کے لئے دو درازے بناتا ایک دروازہ کہ جس سے لوگ (کعبہ کے اندر) داخل ہوتے اور ایک وہ دروازہ کہ جس سے لوگ باہر نکلتے، تو ابن زبیر نے (یہ سن کر) ایسا کر دیا



کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = علم کا بیان
باب = اس شخص کا بیان جس نے بعض جائز چیزوں کو اس خوف سے ترک کردیا کہ بعض ناسمجھ لوگ اس سے زیادہ سخت بات میں مبتلا ہو جائیں گے۔
جلد نمبر  1
حدیث نمبر  126

No comments:

Post a Comment