Saturday, October 2, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:138

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ أَخْبَرَنِي کُرَيْبٌ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّی نَفَخَ ثُمَّ صَلَّی وَرُبَّمَا قَالَ اضْطَجَعَ حَتَّی نَفَخَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی  ح ثُمَّ حَدَّثَنَا بِهِ سُفْيَانُ مَرَّةً بَعْدَ مَرَّةٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ لَيْلَةً فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ فَلَمَّا کَانَ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ قَامَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوئًا خَفِيفًا يُخَفِّفُهُ عَمْرٌو وَيُقَلِّلُهُ وَقَامَ يُصَلِّي فَتَوَضَّأْتُ نَحْوًا مِمَّا تَوَضَّأَ ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ عَنْ شِمَالِهِ فَحَوَّلَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ صَلَّی مَا شَائَ اللَّهُ ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّی نَفَخَ ثُمَّ أَتَاهُ الْمُنَادِي فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ مَعَهُ إِلَی الصَّلَاةِ فَصَلَّی وَلَمْ يَتَوَضَّأْ قُلْنَا لِعَمْرٍو إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَامُ عَيْنُهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ رُؤْيَا الْأَنْبِيَائِ وَحْيٌ ثُمَّ قَرَأَ إِنِّي أَرَی فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُکَ

علی بن عبدﷲ ، سفیان، عمرو، کریب، ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سوئے، یہاں تک کہ سانس کی آواز آئی، پھر آپ نے نماز پڑھی اور کبھی کہتے تھے کہ آپ لیٹے یہاں تک کہ سانس کی آواز آئی، پھر آپ بیدار ہوئے اور آپ نے نماز پڑھی (علی بن عبد ﷲ کی) ایک روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں ایک شب اپنی خالہ میمونہ کے گھر میں رہا تو (میں نے دیکھا کہ) نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم رات کو اٹھے، (جب تھوڑی رات رہ گئی) اور آپ نے ایک لٹکی ہوئی مشک سے خفیف وضو فرمایا (عمرو اس وضو کو بہت خفیف اور قلیل بتاتے تھے) اور نماز پڑ ھنے کھڑے ہو گئے، پس میں نے بھی وضو کیا اسی کے قریب جیسا کہ آپ نے وضو کیا تھا، پھر میں آیا اور آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا اور کبھی سفیان کہتے تھے کہ آپ کے شمال کی جانب (کھڑا ہوگیا) آپ نے مجھے پھیر لیا اور اپنی دائیں جانب کر لیا، جس قدر ﷲ نے چاہا آپ نے نماز پڑھی، پھر آپ لیٹ گئے اور سو گئے، یہاں تک کہ آپ کے سانس کی آواز آئی، اتنے میں آپ کے پاس موذن آیا اور اس نے آپ کو نماز کی اطلاع دی، آپ اس کے ہمراہ نماز کیلئے اٹھ گئے، پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا (سفیا ن) کہتے ہیں ہم نے عمرو سے کہا کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھ سو جاتی تھی اور آپ کا دل نہ سوتا تھا، تو عمرو نے کہا کہ میں نے عبید بن عمیر کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ انبیاء کا خواب وحی ہے، پھر انہوں نے (إِنِّي أَرَی فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُکَ)کی تلاوت کی



کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = وضو کا بیان
باب = وضو میں تخفیف کرنے کا بیان
جلد نمبر  1
حدیث نمبر  138

No comments:

Post a Comment