Sunday, October 3, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:196

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ فِي أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلَاهُ فِي الْأَرْضِ بَيْنَ عَبَّاسٍ وَرَجُلٍ آخَرَ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ أَتَدْرِي مَنْ الرَّجُلُ الْآخَرُ قُلْتُ لَا قَالَ هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَکَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعْدَمَا دَخَلَ بَيْتَهُ وَاشْتَدَّ وَجَعُهُ هَرِيقُوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْکِيَتُهُنَّ لَعَلِّي أَعْهَدُ إِلَی النَّاسِ وَأُجْلِسَ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ طَفِقْنَا نَصُبُّ عَلَيْهِ تِلْکَ حَتَّی طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ ثُمَّ خَرَجَ إِلَی النَّاسِ

ابوالیمان شعیب، زہری، عبیدﷲ بن عبدﷲ بن عتبہ، عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ جب نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم (آخری مرض میں) بیمار ہوئے اور آپ کا مرض سخت ہو گیا تو آپنے اپنی بیبیوں سے اجازت مانگی کہ میرے گھر میں آپ کی تیمار داری کی جائے، تو سب نے آپ کو اجازت دے دی، تب نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم (میرے گھر آنے کے لئے دو آدمیوں کے درمیا ن میں (سہارا لے کر) نکلے، دونوں پیر (مبارک) آپ کے زمین میں گھسٹتے ہوئے جاتے تھے، عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے اور ایک اور شخص کے درمیان آپ نکلے تھے عبیدﷲ (جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں) کہتے ہیں کہ میں نے عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو اس کی خبر دی تو انہوں نے کہا تم جانتے ہو کہ دوسرا شخص کون تھا؟ میں نے کہا نہیں، انہوں نے کہا کہ علی بن ابی طالب رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تھے، عائشہ بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم جب ان کے گھر آچکے اور آپ کا مرض اور بھی زیادہ ہوا تو آپ نے فرمایا کہ سات مشکیں جن کے بند نہ کھولے گئے ہوں، میرے اوپر ڈال دو، تاکہ میں لوگوں کو کچھ وصیت کروں (چناچہ) اس کی تعمیل کی گئی اور آپ حفصہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ زوجہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے مخضب میں بٹھلا دیئے گئے، اس کے بعد ہم سب نے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر پانی ڈالنا شروع کیا جب آپ نے اشارے سے فرمایا کہ بس، اب تم تعمیل حکم کر چکیں (تب ہم نے موقوف کیا) اس کے بعد آپ لوگوں کے پاس باہر تشریف لے گئے



کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = وضو کا بیان
باب = لگن، پیالے اور لکڑی اور پتھر کے برتن سے غسل اور وضو کرنے کا بیان
جلد نمبر  1
حدیث نمبر  196

No comments:

Post a Comment