کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
وضو کا بیان
باب
پیشاب سے نہ بچنا گناہ کبیرہ میں سے ہے
حدیث نمبر
214
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ أَوْ مَکَّةَ فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي کَبِيرٍ ثُمَّ قَالَ بَلَی کَانَ أَحَدُهُمَا لَا يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ وَکَانَ الْآخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ فَکَسَرَهَا کِسْرَتَيْنِ فَوَضَعَ عَلَی کُلِّ قَبْرٍ مِنْهُمَا کِسْرَةً فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ فَعَلْتَ هَذَا قَالَ لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ تَيْبَسَا
عثمان، جریر، منصور، مجاہد، ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرمایا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم مدینہ یا مکہ کے با غات میں تشریف لے گئے، تو دوآدمیوں کی آواز سنی، جن پر قبروں میں عذاب ہورہا تھا، پھر نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ان دونوں پر عذاب ہورہا ہے، لیکن کسی بڑی بات کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا، پھر آپ نے فرمایا! ہاں (بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے) ان میں سے ایک تو اپنے پیشاب سے نہ بچتا تھا، اور دوسرا چغلی کیا کرتا تھا، پھرآپ نے ایک شاخ منگوائی اور اس کے دو ٹکڑے کئے، ان دونوں میں سے ہر ایک کی قبر پر ایک ٹکڑا گاڑدیا، آپ سے عرض کیا گیا کہ یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم یہ آپ نے کیوں کیا؟ آپ نے فرمایا! امید ہے کہ جب تک یہ خشک نہ ہوجائیں ان دونوں پر عذاب میں کمی ہوجائے-
No comments:
Post a Comment