کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نماز کا بیان
باب
صرف ایک کپڑے کو لپیٹ کر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر
348
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَی أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ تَقُولُ ذَهَبْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ قَالَتْ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ فَقُلْتُ أَنَا أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّی ثَمَانِيَ رَکَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا قَدْ أَجَرْتُهُ فُلَانَ ابْنَ هُبَيْرَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ وَذَاکَ ضُحًی
اسمعیل بن ابی اویس، مالک بن انس، ابولنصر (عمر بن عبیدﷲ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام) ابو مرہ (ام ہانی رضی ﷲ عنہا بنت ابی طالب کے آزاد کردہ غلام) ام ہانی رضی ﷲ تعالیٰ عنہا بنت ابی طالب روایت کرتی ہیں کہ میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس فتح (مکہ) کے سال گئی، میں نے آپ کو غسل کرتے ہوئے پایا اور آپ کی بیٹی فاطمہ آپ پر پردہ کئے ہوئے تھیں، ام ہانی کہتی ہیں، میں نے آپ کو سلام کیا، آپ نے فرمایا کون ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں ام ہانی بنت ابی طالب ہوں، آپ نے فرمایا مرحبا ام ہانی پھر جب آپ اپنے غسل سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو گئے اور ایک کپڑے میں التحاف کر کے آٹھ رکعت نماز پڑھی، جب فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول ﷲ کہ میرے باپ کے بیٹے (علی المرتضی) کہتے ہیں کہ میں ایک شخص کو مار ڈالوں، حالانکہ میں نے اسے پناہ دی، ہبیرہ کے فلاں بیٹے کو، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ام ہانی جسے تم نے پناہ دی، اسے ہم نے پناہ دی، ام ہانی رضی ﷲ عنہا کہتی ہیں یہ نماز چاشت کی تھی-
No comments:
Post a Comment