کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
مریض کس حد تک کی بیماری میں حاضر باجماعت ہو
حدیث نمبر
631
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَدَّ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُ فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلَاهُ الْأَرْضَ وَکَانَ بَيْنَ الْعَبَّاسِ وَرَجُلٍ آخَرَ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَالَ لِي وَهَلْ تَدْرِي مَنْ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ قُلْتُ لَا قَالَ هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ
ابراہیم بن موسی، ہشام بن یوسف، معمر، زہری، عیبدﷲ بن عبدﷲ ، حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ جب نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوئے اور مرض آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا بڑھ گیا تو آپ نے اپنی بیبیوں سے اجازت مانگی کہ میرے گھر میں آپ کی تیماداری کی جائے سب نے اجازت دے دی پس آپ دو آدمیوں کے درمیان سہارا لیکر نکلے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے دونوں پیر زمین پر گھسٹتے جاتے تھے اور آپ عباس کے اور ایک اور شخص کے درمیان میں سہارا لگائے ہوئے تھے عبیدﷲ کہتے ہیں کہ مجھ سے جو کچھ حضرت عائشہ نے بیان کیا تھا اس کا ذکر ابن عباس سے کیا انہوں نے کہا تم جانتے ہو کہ وہ دوسرا شخص کون تھا جس کا نام حضرت عائشہ نے نہیں لیا؟ میں نے کہا نہیں انہوں نے کہ وہ علی بن ابی طالب تھے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment