کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
کیا امام جس قدر لوگ موجودہیں ان ہی کے ساتھ نماز پڑھ لے؟۔
حدیث نمبر
634
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ صَاحِبُ الزِّيَادِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ قَالَ خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ فِي يَوْمٍ ذِي رَدْغٍ فَأَمَرَ الْمُؤَذِّنَ لَمَّا بَلَغَ حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ قَالَ قُلْ الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَی بَعْضٍ فَکَأَنَّهُمْ أَنْکَرُوا فَقَالَ کَأَنَّکُمْ أَنْکَرْتُمْ هَذَا إِنَّ هَذَا فَعَلَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا عَزْمَةٌ وَإِنِّي کَرِهْتُ أَنْ أُحْرِجَکُمْ وَعَنْ حَمَّادٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ کَرِهْتُ أَنْ أُؤَثِّمَکُمْ فَتَجِيئُونَ تَدُوسُونَ الطِّينَ إِلَی رُکَبِکُمْ
عبدﷲ بن عبدالوہاب، حماد بن زید، عبدالحمید صاحب الزدیای، عبدﷲ بن حارث کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ بارش کی وجہ سے کیچڑ ہو گئی تھی حضرت ابن عباس نے اس دن خطبہ فرمایا اور موذن سے کہہ دیا تھا کہ اذان کے بعد یہ کہہ دے کہ اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑہو یہ سن کر لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے گویا کہ انہوں نے اس کو برا سمجھا تو ابن عباس کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم نے اس کو برا سمجھا بے شک اس کے اس نے کیا ہے جومجھ سے بہتر تھے یعنی نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے یہ یقینی امر ہے کہ اذان سے مسجد میں آنا واجب ہوجاتا ہے اور میں نے یہ اچھا نہ سمجھا کہ تمہیں تکلیف میں ڈالوں حضرت عاصم نے بھی حضرت ابن عباس سے اسی طرح نقل کیا ہے صرف اتنا فرق ہے کہ انہوں نے کہا کہ مجھے اچھا نہ معلوم ہوا کہ گناہ گار کروں یا تم مٹی کو گھٹنوں تک روندتے آؤ-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment