کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
علم وفضل والا امامت کا زیادہ مستحق ہے
حدیث نمبر
645
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ الْأَنْصَارِيُّ وَکَانَ تَبِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَدَمَهُ وَصَحِبَهُ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ کَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ حَتَّی إِذَا کَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ وَهُمْ صُفُوفٌ فِي الصَّلَاةِ فَکَشَفَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ يَنْظُرُ إِلَيْنَا وَهُوَ قَائِمٌ کَأَنَّ وَجْهَهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ ثُمَّ تَبَسَّمَ يَضْحَکُ فَهَمَمْنَا أَنْ نَفْتَتِنَ مِنْ الْفَرَحِ بِرُؤْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَکَصَ أَبُو بَکْرٍ عَلَی عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ وَظَنَّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجٌ إِلَی الصَّلَاةِ فَأَشَارَ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتِمُّوا صَلَاتَکُمْ وَأَرْخَی السِّتْرَ فَتُوُفِّيَ مِنْ يَوْمِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوالیمان ، شعیب، زہری، انس بن مالک، جو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرنے والے کے خادم اور صحابی تھے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے مرض وفات میں حضرت ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے یہاں تک کہ جب دوشنبہ کا دن ہوا اور لوگ نماز میں صف بستہ تھے تو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حجرہ کا پردہ اٹھایا اور ہم لوگوں کی طرف کھڑے ہوکر دیکھنے لگے اس وقت آپ کا چہرہ مبارک گویا مصحف کا صفحہ تھا پھر آپ بشاشت سے مسکرائے ہم لوگوں نے خوشی کی وجہ سے چاہا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے دیکھنے میں مشغول ہوجائیں اور ابوبکر اپنے پچھلے پیروں پچھے ہٹ آئے تاکہ صف میں مل جائیں وہ سمجھے کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لئے آنے والے ہیں لیکن آپنے ہماری طرف اشارہ کیا کہ اپنی نماز پوری کرلو اور آپ نے پردہ ڈال دیا اسی دن آپ نے وفات پائی (صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم)
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment