کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
امام اسی لئے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے
حدیث نمبر
654
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَکِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ فَصَلَّی صَلَاةً مِنْ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ فَصَلَّيْنَا وَرَائَهُ قُعُودًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا صَلَّی قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا فَإِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ وَإِذَا صَلَّی قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِذَا صَلَّی جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ قَالَ الْحُمَيْدِيُّ قَوْلُهُ إِذَا صَلَّی جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا هُوَ فِي مَرَضِهِ الْقَدِيمِ ثُمَّ صَلَّی بَعْدَ ذَلِکَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَالنَّاسُ خَلْفَهُ قِيَامًا لَمْ يَأْمُرْهُمْ بِالْقُعُودِ وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ فَالْآخِرِ مِنْ فِعْلِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبدﷲ بن یوسف، مالک، ابن شہاب، انس بن مالک، روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ایک مرتبہ گھوڑے پر سوار ہوئے اور اس سے گر گئے تو آپ کے جسم مبارک کا داہنا پہلو اس سے کچھ زخمی ہوگیا اس وجہ سے آپ نے نمازوں میں سے ایک نماز بیٹھ کر پڑھی پھر جب آپ فارغ ہوئے تو آپنے فرمایا امام اسی لئے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے پس اگر وہ کھڑا ہو کر پڑہے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم سب بیٹھ کر پڑھو امام بخاری کہتے ہیں حمید ی نے کہا کہ یہ قول آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا کہ جب امام بیٹھ کر پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو یہ موقع آپ کی پہلی بیماری میں تھا اسکے بعد نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے مرض وفات کے موقع پر بیٹھ کر نماز پڑھی اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے آپ نے انہیں بیٹھنے کا حکم نہیں دیا اور یہ طے شدہ امر ہے کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے آخری سے آخری فعل پر عمل کیا جاتا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment