Saturday, November 6, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:677


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
اگر ایک شخص امام کی اقتداء کرے اور باقی اس مقتدی کی اقتداء کریں۔
حدیث نمبر
677
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَائَ بِلَالٌ يُوذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَی مَا يَقُمْ مَقَامَکَ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَی يَقُمْ مَقَامَکَ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ قَالَ إِنَّکُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفْسِهِ خِفَّةً فَقَامَ يُهَادَی بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ يَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ حَتَّی دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو بَکْرٍ حِسَّهُ ذَهَبَ أَبُو بَکْرٍ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَکْرٍ فَکَانَ أَبُو بَکْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا يَقْتَدِي أَبُو بَکْرٍ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مُقْتَدُونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
قتیبہ بن سعید، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، اسود، حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو بلال آپ کے پاس نماز کی اطلاع کرنے آئے آپ نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں میں نے کہا یا رسول ﷲ ابوبکر ایک نرم دل آدمی ہیں اور وہ جب آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نہ سنا سکیں گے، کاش آپ عمر کو حکم دیتے پھر آپ نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں جب میں نے حفصہ سے کہا کہ تم عرض کرو کہ ابوبکر نرم دل آدمی ہیں اس لئے جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو اپنی آواز نہ سنا سکیں گے کاش آپ عمر کو حکم دیتے (چناچہ حفصہ نے عرض کیا) اس پر آپ نے فرمایا کہ تم ان عورتوں کی طرح ہو جو یوسف کو گھیرے ہوئے تھیں ابوبکر سے کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں پھرجب وہ نماز شروع کر چکے تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے اپنے میں کچھ تخفیف (مرض کی) پائی تو آپ دو آدمیوں کے درمیان میں سہارا دے کر باہر تشریف لے گئے اور آپ کے دونوں پیر زمین پر گھسٹے جاتے تھے یہاں تک کہ آپ مسجد میں داخل ہوئے جب ابوبکر نے آپ کی آہٹ سنی تو ابوبکر پیچھے پلٹنے لگے مگر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا (کہ ہٹو نہیں) پھر نبی صلی ﷲ علیہ وسلم آکر ابوبکر کے بائیں جانب بیٹھ گئے ابوبکر کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے نماز پڑھتے تھے ابوبکر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی اقتداء کرتے تھے اور لوگ ابوبکر کی نماز کے مقتدی تھے۔



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment