Saturday, November 13, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:717


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
اگر نماز میں کوئی خاص واقعہ پیش آجائے یا سامنے تھوک یا کوئی چیز دیکھے تو کیا یہ ٹھیک ہے کہ دزدیدہ نظر سے دیکھے؟
حدیث نمبر
717
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ بَيْنَمَا الْمُسْلِمُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ لَمْ يَفْجَأْهُمْ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَشَفَ سِتْرَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ وَهُمْ صُفُوفٌ فَتَبَسَّمَ يَضْحَکُ وَنَکَصَ أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَی عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ لَهُ الصَّفَّ فَظَنَّ أَنَّهُ يُرِيدُ الْخُرُوجَ وَهَمَّ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يَفْتَتِنُوا فِي صَلَاتِهِمْ فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَتِمُّوا صَلَاتَکُمْ فَأَرْخَی السِّتْرَ وَتُوُفِّيَ مِنْ آخِرِ ذَلِکَ الْيَوْمِ
یحییٰ بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب، انس بن مالک رضی ﷲ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دن مسلمان نماز فجر میں مشغول تھے کہ یکایک رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آگئے- آپ نے حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے حجرے کا پردہ اٹھایا اور مسلمانوں کی طرف دیکھا، اس وقت وہ صف بستہ تھے پس آپ مسرت کے سبب سے مسکرانے لگے، ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اپنے پچھلے پیروں ہٹنے لگے، تاکہ آپ کے لئے (امامت کی جگہ خالی کردیں) اور خود صف میں شامل ہو جائیں، کیونکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ آپ باہر تشریف لانا چاہتے ہیں اور مسلمانوں نے خوشی کے باعث یہ قصد کیا کہ اپنی نمازوں کو توڑ دیں- مگر آپ نے انہیں اشارہ فرمایا کہ تم اپنی نمازوں کو پورا کرلو اور آپ نے پردہ ڈال دیا اور اسی دن کے آخر میں آپ نے وفات پائی-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment