کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
ان کا بیان جنہوں نے پہلے تشہد کو واجب نہیں سمجھا۔
حدیث نمبر
789
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ مَوْلَی بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَقَالَ مَرَّةً مَوْلَی رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ابْنَ بُحَيْنَةَ وَهُوَ مِنْ أَزْدِ شَنُوئَةَ وَهُوَ حَلِيفٌ لِبَنِي عَبْدِ مَنَافٍ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی بِهِمْ الظَّهْرَ فَقَامَ فِي الرَّکْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ لَمْ يَجْلِسْ فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّی إِذَا قَضَی الصَّلَاةَ وَانْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهُ کَبَّرَ وَهُوَ جَالِسٌ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ سَلَّمَ
ابوالیمان، شعیب، زہری، عبدالرحمن بن ہرمز، بنی عبدالمطلب کے آزاد کردہ غلام، یا ربیعہ بن حارث کے آزاد کردہ غلام، عبد ﷲ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بن بحینہ کہتے ہیں (جو قبیلہ آزاد شنوء ۃ اور بنی عبدمناف کے حلیف ہیں، اور نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے) کہتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے (ایک دن) لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائی، تو (بھولے سے) پہلے دو رکعتوں (کے ختم) پر کھڑے ہوگئے، اور قعدہ نہیں کیا تو لوگ بھی آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوگئے، یہاں تک کہ جب آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نماز تمام کر چکے، اور لوگ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے سلام پھیرنے کے منتظر ہوئے، تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹھے بیٹھے ہی تکبیر کہی، اور سلام پھیرنے سے پہلے دوسجدے کئے (1) اس کے بعد سلام(پھیرا) -
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment