کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
امام لوگوں کی طرف منہ کرلے جب سلام پھیرلے
حدیث نمبر
805
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ سَمِعَ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ إِلَی شَطْرِ اللَّيْلِ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَلَمَّا صَلَّی أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَرَقَدُوا وَإِنَّکُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمْ الصَّلَاةَ
عبد ﷲ بن منیر، یزید بن ہارون، حمید، انس بن مالک رضی ﷲ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شب رسول خدا صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے (عشاء کی) نماز میں نصف شب تک تاخیر کردی، اس کے بعد تشریف لائے پھر جب نماز پڑھ چکے تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری طرف منہ کرلیا، اور فرمایا کہ لوگو نماز پڑھ کر سو رہے، اور تم برابر نماز میں رہے جب تک کہ تم نے نماز کا انتظار کیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment