کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
بچوں کے وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
815
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ أَخْبَرَنِي کُرَيْبٌ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ لَيْلَةً فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا کَانَ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوئًا خَفِيفًا يُخَفِّفُهُ عَمْرٌو وَيُقَلِّلُهُ جِدًّا ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ نَحْوًا مِمَّا تَوَضَّأَ ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَحَوَّلَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ صَلَّی مَا شَائَ اللَّهُ ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّی نَفَخَ فَأَتَاهُ الْمُنَادِي يَأْذَنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ مَعَهُ إِلَی الصَّلَاةِ فَصَلَّی وَلَمْ يَتَوَضَّأْ قُلْنَا لِعَمْرٍو إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَامُ عَيْنُهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ إِنَّ رُؤْيَا الْأَنْبِيَائِ وَحْيٌ ثُمَّ قَرَأَ إِنِّي أَرَی فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُکَ
علی، سفیان، عمرو، کریب، ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں ایک شب اپنی خالہ میمونہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے یہاں رہا، میں نے دیکھا کہ جب کچھ رات رہ گئی تو رسول خدا صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوگئے اور آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے لٹکی ہوئی مشک سے ہلکا سے وضو کیا (عمرو راوی) اس وضو کو بہت خفیف اور قلیل بتاتے تھے، اس کے بعد آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے، تو میں بھی اٹھا اور جیسا وضو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا ویسا میں نے کیا، پھر میں یاس آیا اور آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا تو مجھے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی داہنی جانب کھڑا کر لیا، پھر جس قدر ﷲ نے چاہا آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی، اس کے بعد آرام فرمایا اور سوگئے، یہاں تک کہ سانس کی آواز آنے لگی، پھر موذن آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو نماز (فجر) کی اطلاع دینے کیلئے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ نماز کیلئے تشریف لے گئے اور آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے وضو نہیں کیا، سفیان کہتے ہیں کہ ہم نے عمرو سے کہا کہ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھ سوتی تھی مگر آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا دل نہ سوتا تھا- عمرو نے کہا کہ میں عبید بن عمیر کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ انبیاء کا خواب وحی ہے پھر انہوں نے پڑھا- (ترجمہ) بے شک میں خواب دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment