کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اذان کا بیان
باب
رات کے وقت اور اندھیرے میں عورتوں کے مسجد جانے کا بیان
حدیث نمبر
820
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَتَمَةِ حَتَّی نَادَاهُ عُمَرُ نَامَ النِّسَائُ وَالصِّبْيَانُ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ غَيْرُکُمْ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا يُصَلَّی يَوْمَئِذٍ إِلَّا بِالْمَدِينَةِ وَکَانُوا يُصَلُّونَ الْعَتَمَةَ فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ إِلَی ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ
ابوالیمان، شعیب، زہری، عروۃ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول خدا صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے (ایک دن) عشاء کی نماز میں تاخیر کردی یہاں تک کہ عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو آواز دی کہ عورتیں اور بچے سو رہے، پس نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور فرمایا کہ زمین والوں میں سے سوائے تمہارے کوئی اس نماز کا منتظر نہیں ہے، اور اسوقت مدینہ کے سوا کہیں نماز نہ پڑھی جاتی تھی اور عشاء کی نماز شفق کے غائب ہونے کے بعد سے تہائی رات تک پڑھ لیتے تھے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment