کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نماز خوف کا بیان
باب
دشمن کا پیچھا کرنے والا یا اس کے پیچھے دشمن لگا ہوا ہو اس کے اشارے سے اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر
898
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ قَالَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَا لَمَّا رَجَعَ مِنْ الْأَحْزَابِ لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَأَدْرَکَ بَعْضَهُمْ الْعَصْرُ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا نُصَلِّي حَتَّی نَأْتِيَهَا وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ نُصَلِّي لَمْ يُرَدْ مِنَّا ذَلِکَ فَذُکِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُعَنِّفْ وَاحِدًا مِنْهُمْ
عبد ﷲ بن محمد بن اسماء، جویریہ، نافع، ابن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ جب نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم جنگ احزاب سے واپس ہوئے تو ہم لوگوں سے فرمایا کہ کوئی عصر کی نماز نہ پڑھے مگر بنی قریظہ میں پہنچ کر، چناچہ بعض لوگوں کے راستہ میں ہی عصر کا وقت گا، تو بعض نے کہا کہ ہم نماز نہیں پڑھیں گے جب تکہ کہ وہاں (بنی قریظہ) تکہ نہ جائیں، اور بعض نے کہا کہ ہم تو نماز پڑھیں گے اور آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد یہ نہ تھا کہ ہم قضا کریں جب اس کا ذکر رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کو ملامت نہ کی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment