Thursday, November 18, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:907


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
عیدین کا بیان
باب
عیدگاہ بغیر منبر کے جانے کا بیان
حدیث نمبر
907
حَدَّثَنَي سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَی إِلَی الْمُصَلَّی فَأَوَّلُ شَيْئٍ يَبْدَأُ بِهِ الصَّلَاةُ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَقُومُ مُقَابِلَ النَّاسِ وَالنَّاسُ جُلُوسٌ عَلَی صُفُوفِهِمْ فَيَعِظُهُمْ وَيُوصِيهِمْ وَيَأْمُرُهُمْ فَإِنْ کَانَ يُرِيدُ أَنْ يَقْطَعَ بَعْثًا قَطَعَهُ أَوْ يَأْمُرَ بِشَيْئٍ أَمَرَ بِهِ ثُمَّ يَنْصَرِفُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَلَمْ يَزَلْ النَّاسُ عَلَی ذَلِکَ حَتَّی خَرَجْتُ مَعَ مَرْوَانَ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ فِي أَضْحًی أَوْ فِطْرٍ فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمُصَلَّی إِذَا مِنْبَرٌ بَنَاهُ کَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ فَإِذَا مَرْوَانُ يُرِيدُ أَنْ يَرْتَقِيَهُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَجَبَذْتُ بِثَوْبِهِ فَجَبَذَنِي فَارْتَفَعَ فَخَطَبَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَقُلْتُ لَهُ غَيَّرْتُمْ وَاللَّهِ فَقَالَ أَبَا سَعِيدٍ قَدْ ذَهَبَ مَا تَعْلَمُ فَقُلْتُ مَا أَعْلَمُ وَاللَّهِ خَيْرٌ مِمَّا لَا أَعْلَمُ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ لَمْ يَکُونُوا يَجْلِسُونَ لَنَا بَعْدَ الصَّلَاةِ فَجَعَلْتُهَا قَبْلَ الصَّلَاةِ
سعید بن ابی مریم، محمد بن جعفر، زید بن اسلم، عیاض بن عبد ﷲ بن ابی سرح، ابوسعید خدری روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم عید الفطر اور بقر عید کے دن عیدگاہ کو جاتے، اور اس دن سب سے پہلے جو کام کرتے وہ یہ کہ نماز پڑھتے، پھر نماز سے فارغ ہوکر لوگوں کے سامنے کھڑے ہوتے اس حال میں کہ لوگ اپنی صفوں پر بیٹھے ہوتے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم انہیں نصیحت کرتے تھے اور وصیت کرتے تھے اور انہیں حکم دیتے تھے اور اگرکوئی لشکر بھیجنے کا ارادہ کرتے تو اس کو جدا کرتے، اور جس چیز کا حکم دینا ہوتا، دیتے، پھر واپس ہو جاتے، ابوسعید نے کہا کہ لوگ ہمیشہ اسی طرح کرتے رہے، یہاں تک کہ میں مروان کے ساتھ عیدالضحیٰ یا عیدالفطر میں نکلاجو مدینہ کا گورنر تھا- جب ہم لوگ عیدگاہ پہنچے تو دیکھا کہ وہاں منبر موجود تھا، جو کثیر بن صلت نے بنایا تھا، مروان نے نماز پڑھنے سے پہلے اس منبر پر چڑھنے کا ارادہ کیا تو میں نے اس کا کپڑا پکڑکر کھینچا، اس نے بھی مجھے کھینچا، اور منبر پر چڑھ گیا، اور نماز سے پہلے خطبہ پڑھا، میں نے اس سے کہا کہ بخدا! تم نے سنت کو بدل ڈالا، مروان نے کہا کہ اے ابوسعید ! وہ چیز گزر چکی جو تم جانتے ہو، میں نے کہا بخدا!میں جو چیز جانتا ہوں وہ اس سے بہتر ہے جو میں نہیں جانتا ہوں- مروان نے کہا لوگ نماز کے بعد میری بات سننے کیلئے نہیں بیٹھتے، اس لئے میں نے خطبہ نماز سے پہلے کیا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment