Thursday, November 18, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:909


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
عیدین کا بیان
باب
عید کی نماز کیلئے پیدل، اور سوار ہو کر جانے کا بیان۔
حدیث نمبر
909
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِوقَالَ وَأَخْبَرَنِي عَطَائٌ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَرْسَلَ إِلَی ابْنِ الزُّبَيْرِ فِي أَوَّلِ مَا بُويِعَ لَهُ إِنَّهُ لَمْ يَکُنْ يُؤَذَّنُ بِالصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ إِنَّمَا الْخُطْبَةُ بَعْدَ الصَّلَاةِو أَخْبَرَنِي عَطَائٌ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا لَمْ يَکُنْ يُؤَذَّنُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَلَا يَوْمَ الْأَضْحَیوَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ بَعْدُ فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فَأَتَی النِّسَائَ فَذَکَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَکَّأُ عَلَی يَدِ بِلَالٍ وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ يُلْقِي فِيهِ النِّسَائُ صَدَقَةً قُلْتُ لِعَطَائٍ أَتَرَی حَقًّا عَلَی الْإِمَامِ الْآنَ أَنْ يَأْتِيَ النِّسَائَ فَيُذَکِّرَهُنَّ حِينَ يَفْرُغُ قَالَ إِنَّ ذَلِکَ لَحَقٌّ عَلَيْهِمْ وَمَا لَهُمْ أَنْ لَا يَفْعَلُوا
ابراہیم بن موسیٰ، ہشام، ابن جریج، عطاجابر بن عبد ﷲ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ان کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم عیدالفطر کے دن عیدگاہ کی طرف تشریف لے گئے، اور خطبہ سے پہلے نماز پڑھی، ابن جریج نے کہا مجھ سے عطاء نے بیان کیا کہ ابن عباس نے ابن زبیر کو جب ان کیلئے بیعت لی جارہی تھی کھلا بھیجا کہ عیدالفطر کے دن نماز کیلئے اذان نہیں کہی جاتی تھی اور خطبہ نماز کے بعد ہوتا تھا، اور عطاء نے مجھ سے بواسطہ ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اور جابر بن عبد ﷲ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بیان کیا کہ نہ تو عیدالفطر میں اور نہ عیدالضحیٰ کے دن اذان دی جاتی تھی اور جابر بن عبد ﷲ سے روایت ہے کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے، پہلے نماز پڑھی پھر بعد میں لوگوں کے سامنے خطبہ دیا، جب نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو عورتوں کے پاس آئے، اور انہیں نصیحت کی اس حال میں کہ بلال رضی ﷲ تعالیٰ عنہ پر تکیہ کئے ہوئے تھے، اور بلال اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے، عورتیں اس میں صدقات ڈال رہی تھیں، میں نے عطاء سے پوچھا کہ کیا آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم امام کیلئے واجب سمجھتے ہیں کہ وہ عورتوں کے پاس آئے اور انہیں نصیحت کرے، جب وہ نماز سے فارغ ہوجائے؟ انہوں نے جواب دیا کہ بلاشبہ یہ ان کے ذمہ واجب ہے اور انہیں کیا ہوگیا ہے کہ ایسا نہیں کرتے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment