کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
عیدین کا بیان
باب
عید کے دن اور حرم میں ہتھیار لےکر جانے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر
914
حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ يَحْيَی أَبُو السُّکَيْنِ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ کُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ حِينَ أَصَابَهُ سِنَانُ الرُّمْحِ فِي أَخْمَصِ قَدَمِهِ فَلَزِقَتْ قَدَمُهُ بِالرِّکَابِ فَنَزَلْتُ فَنَزَعْتُهَا وَذَلِکَ بِمِنًی فَبَلَغَ الْحَجَّاجَ فَجَعَلَ يَعُودُهُ فَقَالَ الْحَجَّاجُ لَوْ نَعْلَمُ مَنْ أَصَابَکَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَنْتَ أَصَبْتَنِي قَالَ وَکَيْفَ قَالَ حَمَلْتَ السِّلَاحَ فِي يَوْمٍ لَمْ يَکُنْ يُحْمَلُ فِيهِ وَأَدْخَلْتَ السِّلَاحَ الْحَرَمَ وَلَمْ يَکُنْ السِّلَاحُ يُدْخَلُ الْحَرَمَ
زکریا بن یحییٰ، ابوالسیکن، محمد بن سوقہ، سعید بن جبیر روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ میں ابن عمر کے ساتھ تھا، جب ان کے تلوے میں نیزے کی نوک چبھ گئی اور ان کا پاؤں رکاب سے چمٹ گیا، تو میں اترا اور اس نیزے کو نکالا، یہ واقعہ منیٰ میں ہوا تھا- جب حجاج کو خبر ملی تو ان کی عیادت کرنے آیا، تو حجاج نے کہا کاش ہمیں معلوم ہوجاتا کہ کس نے آپ کو یہ تکلیف پہنچائی ہے، ابن عمر نے جواب دیا کہ تو نے ہی ہمیں یہ تکلیف پہنچائی؟ حجاج نے پوچھا کیونکر؟ ابن عمر نے جواب دیا کہ تو ایسے دن ہتھیار لے کر آیا جس دن ہتھیار لے کر نہیں آیا جاتا تھا اور تو نے ہتھیار حرم میں داخل کیا حالانکہ حرم میں ہتھیار داخل نہیں کیا جاتا تھا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment