کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
عیدین کا بیان
باب
عید کی نماز کیلئے سویرے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر
916
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِکَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ عَجَّلَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنْ النُّسُکِ فِي شَيْئٍ فَقَامَ خَالِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ قَالَ اجْعَلْهَا مَکَانَهَا أَوْ قَالَ اذْبَحْهَا وَلَنْ تَجْزِيَ جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَکَ
سلیمان بن حرب، شعبہ، زبید، شعبی، براء بن عازب سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ قربانی کے دن رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا تو فرمایا کہ سب سے پہلے ہم اس دن جو کام کریں وہ یہ کہ نماز پڑھیں، پھر واپس ہوں اور قربانی کریں، جو ایسا کرے تو اس نے میری سنت کو پا لیا اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کیا تو وہ گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کیلئے جلدی تیار کیا ہے، قربانی نہیں ہے، میرے ماموں ابوبردہ بن نیار کھڑے ہوئے اور کہا یا رسول ﷲ! میں نے نماز سے پہلے ذبح کرلیا اور میرے پاس ایک بکری کا ایک سال کا بچہ ہے جو دو سال کے بچے سے بہتر ہے، آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو اس کا مقام بنا لے یا فرمایا کہ اس کی جگہ ذبح کر لے لیکن تیرے بعد کسی کیلئے کافی نہ ہوگا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment