کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
عیدین کا بیان
باب
منیٰ کے دنوں میں تکبیر کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر
918
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الثَّقَفِيُّ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ وَنَحْنُ غَادِيَانِ مِنْ مِنًی إِلَی عَرَفَاتٍ عَنْ التَّلْبِيَةِ کَيْفَ کُنْتُمْ تَصْنَعُونَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کَانَ يُلَبِّي الْمُلَبِّي لَا يُنْکَرُ عَلَيْهِ وَيُکَبِّرُ الْمُکَبِّرُ فَلَا يُنْکَرُ عَلَيْهِ
ابونعیم، مالک بن انس، محمد بن ابی بکر ثقفی روایت کرتے ہیں کہ ہم لوگ صبح کے وقت منیٰ سے عرفات کو جارہے تھے تو میں نے انس بن مالک سے تلبیہ کے متعلق پوچھا کہ آپ لوگ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کس طرح کرتے تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ لبیک کہنے والا لبیک کہتا تو اس پر کوئی اعتراض نہ کرتا اور تکبیر کہنے والا تکبیر کہتا تو اسے بھی کوئی برا نہیں سمجھتا تھا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment