کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
عیدین کا بیان
باب
عورت کے پاس عید میں دوپٹہ ہو (توکیا کرے)
حدیث نمبر
927
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ قَالَتْ کُنَّا نَمْنَعُ جَوَارِيَنَا أَنْ يَخْرُجْنَ يَوْمَ الْعِيدِ فَجَائَتْ امْرَأَةٌ فَنَزَلَتْ قَصْرَ بَنِي خَلَفٍ فَأَتَيْتُهَا فَحَدَّثَتْ أَنَّ زَوْجَ أُخْتِهَا غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ غَزْوَةً فَکَانَتْ أُخْتُهَا مَعَهُ فِي سِتِّ غَزَوَاتٍ فَقَالَتْ فَکُنَّا نَقُومُ عَلَی الْمَرْضَی وَنُدَاوِي الْکَلْمَی فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعَلَی إِحْدَانَا بَأْسٌ إِذَا لَمْ يَکُنْ لَهَا جِلْبَابٌ أَنْ لَا تَخْرُجَ فَقَالَ لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا فَلْيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ حَفْصَةُ فَلَمَّا قَدِمَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ أَتَيْتُهَا فَسَأَلْتُهَا أَسَمِعْتِ فِي کَذَا وَکَذَا قَالَتْ نَعَمْ بِأَبِي وَقَلَّمَا ذَکَرَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَتْ بِأَبِي قَالَ لِيَخْرُجْ الْعَوَاتِقُ ذَوَاتُ الْخُدُورِ أَوْ قَالَ الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُورِ شَکَّ أَيُّوبُ وَالْحُيَّضُ وَيَعْتَزِلُ الْحُيَّضُ الْمُصَلَّی وَلْيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ فَقُلْتُ لَهَا الْحُيَّضُ قَالَتْ نَعَمْ أَلَيْسَ الْحَائِضُ تَشْهَدُ عَرَفَاتٍ وَتَشْهَدُ کَذَا وَتَشْهَدُ کَذَا
ابومعمر، عبدالوارث، ایوب، حفصہ بنت سیرین روایت کرتی ہیں کہ ہم لوگ اپنی لڑکیوں کو عید کے دن نکلنے سے روکتی تھیں، ایک عورت آئی اور قصر بنی خلف میں اتری، میں اس کے پاس پہنچی تو اس نے بیان کیا کہ اس کی بہن کا شوہر نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بارہ غزوات میں شریک ہوا تھا، تو اس کی بہن کچھ غزوات میں اپنے شوہر کے ساتھ تھی، اور اس نے بیان کیا کہ ہم لوگوں کا کام مریضوں کا علاج اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرنا تھا، تو اس نے کہایا رسول ﷲ! کیا ہم لوگوں میں سے کسی کیلئے اس باب میں کوئی مضائقہ ہے کہ وہ (عید کے دن) نہ نکلے اگر اس کی چادر نہ ہو آپ نے فرمایا کہ اس کی ہم جولی اسے اپنی چادر اڑھادے، اور چاہئے کہ وہ لوگ نیک کام میں شریک ہوں اور مومنین کی دعوت میں حاضر ہوں، حفصہ نے کہا کہ جب ام عطیہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا آئیں تو میں ان کے پاس پہنچی اور ان سے پوچھا کہ آپ نے اس کے متلعق کچھ سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا ہاں آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں اور جب کبھی بھی وہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا نام لیتیں تو یہ ضرور کہتیں کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ نے فرمایا کہ پردے والی جوان عورتیں باہر نکلیں یا یہ فرمایا کہ پردے والی اور جوان عورتیں نکلیں، ایوب کو شک ہوا اور حائضہ عورتیں بھی نکلیں، لیکن وہ نماز کی جگہ سے علیحدہ رہیں اور نیک کام اور مومنین کی دعا میں شریک ہوں- حفصہ کا بیان ہے کہ میں نے ام عطیہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے کہا کہ کیا حائضہ عورتیں بھی نکلیں؟ انہوں نے کہا کہ کیا حائضہ عرفات میں اور فلاں فلاں جگہ میں نہیں جاتی ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment