Thursday, November 18, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:937


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
وتر کا بیان
باب
ان روایتوں کا بیان جو وتر کے بارے میں منقول ہیں
حدیث نمبر
937
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ کُرَيْبٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ وَهِيَ خَالَتُهُ فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ وِسَادَةٍ وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا فَنَامَ حَتَّی انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَرِيبًا مِنْهُ فَاسْتَيْقَظَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ آلِ عِمْرَانَ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوئَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَصَنَعْتُ مِثْلَهُ فَقُمْتُ إِلَی جَنْبهِ فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَی عَلَی رَأْسِي وَأَخَذَ بِأُذُنِي يَفْتِلُهَا ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ أَوْتَرَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّی جَائَهُ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی الصُّبْحَ
عبد ﷲ بن مسلمہ، مالک، مخرمہ بن سلیمان، کریب، ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنی خالہ میمونہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے پاس رات گذاری، اور بیان کرتے ہیں میں بستر کے عرض میں لیٹا اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی بیوی بستر کے طول میں لیٹے، یہاں تک کہ آدھی رات یا اس کے مثل گزری ہوگی کہ آپ اپنے چہرے سے نیند کا اثر دور کرتے ہوئے بیدار ہوئے، پھر سورہ آل عمران کی دس آیتیں پڑھیں بعد ازاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک لٹکتی ہوئی مشک کے پاس گئے اور اچھی طرح وضو کیا پھر نماز پڑھنے کو کھڑے ہوئے ، میں نے بھی آپ کی طرح کیا اور آپ کے بازو میں کھڑا ہوگیا آپ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا کان ملنے لگے پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی پھر دررکعت ،پھر دو رکعت ، پھر دو رکعت ، پھر دو رکعت ، پھر دو رکعت ، پھر وتر پڑھے ۔پھر لیٹ گئے یہاں تک کہ آپ کے پاس موذن آیا آپ کھڑے ہوئے دو رکعتیں پڑھیں ، پھر باہر نکلے تو صبح کی نماز پڑھائی ۔



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment