کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
وتر کا بیان
باب
سواری پر وتر پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر
944
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ أَسِيرُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَکَّةَ فَقَالَ سَعِيدٌ فَلَمَّا خَشِيتُ الصُّبْحَ نَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ ثُمَّ لَحِقْتُهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَيْنَ کُنْتَ فَقُلْتُ خَشِيتُ الصُّبْحَ فَنَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَلَيْسَ لَکَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أسْوَةٌ حَسَنَةٌ فَقُلْتُ بَلَی وَاللَّهِ قَالَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُوتِرُ عَلَی الْبَعِيرِ
اسمٰعیل، مالک، ابوبکر بن عمر بن عبدالرحمن، عبد ﷲ بن عمر بن خطاب رضی ﷲ تعالیٰ عنہ، سعید بن یسار سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ میں عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مکہ کے راستہ پر جا رہا تھا جب مجھے صبح ہونے کا خطرہ ہوا تو میں اترا اور وتر پڑھ کر ان سے ملا، عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے پوچھا کہاں رہ گئے تھے؟ میں نے کہا کہ مجھے فجر کا خطرہ ہو رہا تھا چنانچہ میں اترا اور وتر پڑھ لیا، عبد ﷲ نے کہا کیا تمہارے لیے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم میں اچھا نمونہ نہیں ہے؟ میں نے کہا ہاں و ﷲ! تو انہوں نے کہا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اونٹ پر وتر پڑھ لیتے تھے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment