کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
وتر کا بیان
باب
رکوع سے پہلے اور اس کے بعد دعائے قنوت پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر
947
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ عَنْ الْقُنُوتِ فَقَالَ قَدْ کَانَ الْقُنُوتُ قُلْتُ قَبْلَ الرُّکُوعِ أَوْ بَعْدَهُ قَالَ قَبْلَهُ قَالَ فَإِنَّ فُلَانًا أَخْبَرَنِي عَنْکَ أَنَّکَ قُلْتَ بَعْدَ الرُّکُوعِ فَقَالَ کَذَبَ إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّکُوعِ شَهْرًا أُرَاهُ کَانَ بَعَثَ قَوْمًا يُقَالُ لَهُمْ الْقُرَّائُ زُهَائَ سَبْعِينَ رَجُلًا إِلَی قَوْمٍ مِنْ الْمُشْرِکِينَ دُونَ أُولَئِکَ وَکَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَقَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَيْهِمْ
مسدد، عبدالواحد، عاصم بیان کرتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے دعائے قنوت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ دعائے قنوت پڑھی جاتی تھی، میں نے پوچھا رکوع سے پہلے یا اس کے بعد؟ انہوں نے کہا رکوع سے پہلے، عاصم نے کہا کہ فلاں نے مجھ سے آپ کے متعلق بیان کیا کہ آپ بعد رکوع کے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا وہ جھوٹا ہے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کے بعد ایک مہینہ تک دعا قنوت پڑھی اور میں سمجھتا ہوں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے تقریبا ستر آدمیوں کو جنہیں قرّاء کہا جاتا تھا مشرکوں کی طرف بھیجا تھا یہ لوگ ان کے سوا تھے جن پر آپ نے بددعا فرمائی تھی اور ان کے درمیان اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان معاہدہ تھا پھر (عہد شکنی کی بناء پر) رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مہینہ تک دعائے قنوت پڑھی اور ان پر بددعا کی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment