Sunday, December 5, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1166


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنازوں کا بیان
باب
میت کے پاس جب وہ کفن میں رکھ دیاگیا ہو موت کے بعد جانے کا بیان
حدیث نمبر
1166
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ أُمَّ الْعَلَائِ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ بَايَعَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ اقْتُسِمَ الْمُهَاجِرُونَ قُرْعَةً فَطَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فَأَنْزَلْنَاهُ فِي أَبْيَاتِنَا فَوَجِعَ وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَلَمَّا تُوُفِّيَ وَغُسِّلَ وَکُفِّنَ فِي أَثْوَابِهِ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْکَ أَبَا السَّائِبِ فَشَهَادَتِي عَلَيْکَ لَقَدْ أَکْرَمَکَ اللَّهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يُدْرِيکِ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَکْرَمَهُ فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَنْ يُکْرِمُهُ اللَّهُ فَقَالَ أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَائَهُ الْيَقِينُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَا يُفْعَلُ بِي قَالَتْ فَوَاللَّهِ لَا أُزَکِّي أَحَدًا بَعْدَهُ أَبَدًا
یحیی بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب، خارجہ بن زیدبن ثابت روایت کرتے ہیں کہ انصار کی ایک عورت ام علاء نے بیان کیا جنہوں نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی کہ مہاجرین نے انصار کی تقسیم کا قرعہ ڈالا ہمارے حصہ میں عثمان بن مظعون آئے، ہم نے ان کو اپنے گھر میں اتارا اور ان کو بیماری لاحق ہوگئی جس میں وفات پائی اور نہلا کر کفن پہنائے گئے تو رسول ﷲ تشریف لائے، میں نے کہا اے ابوالسائب تم پر ﷲ کی رحمت ہو تمہارے متعلق میری شہادت ہے کہ ﷲ نے تمہیں معزز بنایا، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے بتایا؟ میں نے کہا یا رسول ﷲ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، پھر کون ہے جس کو ﷲ تعالی معزز بنائے گا، آپ نے فرمایا ان پر موت آئی ہے بخدا میں اس کے لئے خیر کا امیدوار ہوں بخدا میں یقین کے ساتھ نہیں جانتا ہوں حالانکہ میں ﷲ کا رسول ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا، ام علاء نے کہا کہ بخدا میں نے اس کے بعد کسی کے متعلق کبھی بھی پاک ہونے کی شہادت نہیں دی-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment