Sunday, December 5, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1205


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنازوں کا بیان
باب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا بیان کہ میت کو اس کے گھر والوں کی طرف سے رونے کے سبب عذاب ہوتا ہے۔
حدیث نمبر
1205
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ وَمُحَمَّدٌ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَرْسَلَتْ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ إِنَّ ابْنًا لِي قُبِضَ فَأْتِنَا فَأَرْسَلَ يُقْرِئُ السَّلَامَ وَيَقُولُ إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَی وَکُلٌّ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّی فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُقْسِمُ عَلَيْهِ لَيَأْتِيَنَّهَا فَقَامَ وَمَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَمَعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرِجَالٌ فَرُفِعَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَتَقَعْقَعُ قَالَ حَسِبْتُهُ أَنَّهُ قَالَ کَأَنَّهَا شَنٌّ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذَا فَقَالَ هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَائَ
عبدان و محمد، عبدﷲ ، عاصم بن سلیمان، ابوعثمان، اسامہ بن زید رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی نے آپ کو کہلا بھیجا کہ میرا ایک لڑکا وفات پا گیا ہے اس لئے آپ تشریف لائیں- آپ نے اس کا جواب کہلا بھیجا کہ سلام کہتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ﷲ کی جوچیز تھی وہ لے لی اور اسی کی ہے وہ چیز جو اس نے دی اور ہر شخص کی ایک مدت مقرر ہے اس لئے صبر کر اور اسے بھی ثواب سمجھ- آپ کی صاحبزادی نے پھر آپ کے پاس آدمی قسم دیتے ہوئے بھیجا کہ آپ ضرور تشریف لائیں تو آپ کھڑے ہوئے اور آپ کے ساتھ سعد بن عبادہ، معاذ بن جبل، ابی بن کعب، زید بن ثابت اور کچھ لوگ تھے وہ لڑکا رسول ﷲ کے پاس لایا گیا اور اس کی سانس اکھڑ رہی تھی- راوی کا بیان ہے کہ وہ ایک مشک تھی پس آپ کی دونوں آنکھیں بہنے لگیں، سعد نے عرض کیا یا رسول ﷲ یہ کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ یہ رحمت ہے جو ﷲ تعالی نے اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا کی ہے اور ﷲ تعالی رحم کرنے والے بندوں پر ہی رحم کرتے ہیں-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment