کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنازوں کا بیان
باب
حدیث نمبر
1212
بَاب حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْکَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جِيئَ بِأَبِي يَوْمَ أُحُدٍ قَدْ مُثِّلَ بِهِ حَتَّی وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سُجِّيَ ثَوْبًا فَذَهَبْتُ أُرِيدُ أَنْ أَکْشِفَ عَنْهُ فَنَهَانِي قَوْمِي ثُمَّ ذَهَبْتُ أَکْشِفُ عَنْهُ فَنَهَانِي قَوْمِي فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُفِعَ فَسَمِعَ صَوْتَ صَائِحَةٍ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ فَقَالُوا ابْنَةُ عَمْرٍو أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو قَالَ فَلِمَ تَبْکِي أَوْ لَا تَبْکِي فَمَا زَالَتْ الْمَلَائِکَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّی رُفِعَ
علی بن عبدﷲ ، سفیان، ابن منکدر سے روایت کیا ہے انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبدﷲ کو کہتے ہوئے سنا کہ میرے والد احد کے دن لائے گئے اور ان کے ساتھ مثلہ کیا گیا تھا، یہاں تک کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس اس کی لاش رکھی گئی ان کو ایک کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا تھا، میں اس ارادے سے قریب گیا کہ ان کو کھولوں تو میری قوم نے مجھے روکا پھر میں گیا تاکہ ان کے جسم سے کپڑے کو ہٹاؤں تو میری قوم نے مجھے منع کیارسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو کپڑا ہٹایا گیا آپ نے ایک چیخنے والی کی آوازسنی تو آپ نے فرمایا کہ یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ عمرو کی بیٹی یا عمرو کی بہن ہے آپ نے فرمایا کیوں روتی ہو تم رویا نہ کرو فرشتے تو اس پر اپنے پروں سے سایہ کیے ہوئے تھے کہاں تک کہ اٹھا لیے گیے
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment