Friday, December 10, 2010

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1268


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنازوں کا بیان
باب
جب بچہ اسلام لے آئے اور مرجائے تو کیا اس پر نماز پڑھی جائے گی؟
حدیث نمبر
1268
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ انْطَلَقَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ حَتَّی وَجَدُوهُ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ الْحُلُمَ فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّی ضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ لِابْنِ صَيَّادٍ تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّکَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَرَفَضَهُ وَقَالَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ فَقَالَ لَهُ مَاذَا تَرَی قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ يَأْتِينِي صَادِقٌ وَکَاذِبٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُلِّطَ عَلَيْکَ الْأَمْرُ ثُمَّ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَکَ خَبِيئًا فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ هُوَ الدُّخُّ فَقَالَ اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَکَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ يَکُنْهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَکُنْهُ فَلَا خَيْرَ لَکَ فِي قَتْلِهِ وَقَالَ سَالِمٌ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ إِلَی النَّخْلِ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ ابْنُ صَيَّادٍ فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ يَعْنِي فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْزَةٌ أَوْ زَمْرَةٌ فَرَأَتْ أمُّ ابْنِ صَيّادٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ فَقَالَتْ لِابْنِ صَيَّادٍ يَا صَافِ وَهُوَ اسْمُ ابْنِ صَيَّادٍ هَذَا مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَثَارَ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَرَکَتْهُ بَيَّنَ وَقَالَ شُعَيْبٌ فِي حَدِيثِهِ فَرَفَصَهُ رَمْرَمَةٌ أَوْ زَمْزَمَةٌ وَقَالَ إِسْحَاقُ الْکَلْبِيُّ وَعُقَيْلٌ رَمْرَمَةٌ وَقَالَ مَعْمَرٌ رَمْزَةٌ
عبدان، عبدﷲ ، یونس، زہری، سالم بن عبدﷲ، عبدﷲ بن عمر سے روایت کرتے ہیں عمر رضی ﷲ عنہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے ہمراہ ابن صیاد کی طرف چلے کچھ اور لوگ بھی ساتھ تھے ان لوگوں نے ابن صیاد کو بنی مغالہ کے ٹیلوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیلتا ہوا پایا ابن صیاد جوانی کے قریب تھا ابن صیاد کو حضور کے آنے کی خبر نہ ہوئی یہاں تک کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مارا پھر ابن صیاد سے فرمایا کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں ﷲ کا رسول ہوں ؟ آپ کی طرف ابن صیاد نے دیکھا اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے رسول ہیں تو آپ نے اس کو چھوڑ دیا اور فرمایا کہ میں ﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لایا آپ نے اس سے فرمایا کہ تو دیکھتا کیا ہے ؟ ابن صیاد نے فرمایا کہ میرے پاس سچا اور جھوٹا آتا ہے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تجھ پر امر مشتبہ کردیا پھر اس سے آپ نے فرمایا کہ میں نے ایک بات اپنے دل میں چھپائی ہے تو بتا کیا ہے ؟ ابن صیاد نے کہاوہ دخ ہے آپ نے فرمایا تو ذلیل وخوار ہو تو اپنی حد سے آگے نہیں بڑھ سکتا عمر رضی ﷲ عنہ نے عرض کیا یا رسول ﷲ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑادوں- نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہی دجال ہے تو تجھے اس پر قدرت نہ ہوگی اور اگر وہ نہیں ہے تو اس کے قتل کرنے میں کوئی بھلائی نہیں ہے سالم نے بیان کیا کہ میں نے ابن عمر کو فرماتے ہوئے سنا اس کے بعد نبی صلی ﷲ علیہ وسلم اور ابی بن کعب اس درخت کے پاس گئے جہاں ابن صیاد تھا آپ یہ خیال کر رہے تھے ابن صیاد سے قبل اس کے کہ وہ آپ کو دیکھے کچھ سنیں نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا اس حال میں کہ وہ لیٹا ہوا تھا چادر میں لپٹا ہوا تھا اور اس سے کچھ آواز آرہی تھی ابن صیاد کی ماں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو دیکھ لیاحالانکہ آپ درختوں کی آڑ میں سے ہوکر آرہے تھے اس نے ابن صیاد سے کہا اے صاف جو ابن صیاد کا نام تھا یہ محمد صلی ﷲ علیہ وسلم آرہے ہیں ابن صیاد اٹھ بیٹھا تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ اسے چھوڑ دیتی تو معاملہ کھل جاتا اور شعیب نے اپنی حدیث میں فَرَفَصَهُ رَمْرَمَةٌ  یا زَمْزَمَةٌ  کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے اور عقیل نے رمرمہ اور معمر نے رَمْزَةٌ روایت کیا ہے۔



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment