کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنازوں کا بیان
باب
جب بچہ اسلام لے آئے اور مرجائے تو کیا اس پر نماز پڑھی جائے گی؟
حدیث نمبر
1270
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ يُصَلَّی عَلَی کُلِّ مَوْلُودٍ مُتَوَفًّی وَإِنْ کَانَ لِغَيَّةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ وُلِدَ عَلَی فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ يَدَّعِي أَبَوَاهُ الْإِسْلَامَ أَوْ أَبُوهُ خَاصَّةً وَإِنْ کَانَتْ أُمُّهُ عَلَی غَيْرِ الْإِسْلَامِ إِذَا اسْتَهَلَّ صَارِخًا صُلِّيَ عَلَيْهِ وَلَا يُصَلَّی عَلَی مَنْ لَا يَسْتَهِلُّ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ سِقْطٌ فَإِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کَانَ يُحَدِّثُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ کَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَائَ هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَائَ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا الْآيَةَ
ابوالیمان، شعیب، ابن شہاب کہتے ہیں کہ ہر وفات پانے والے بچے پر نماز پڑھی جائے گی اگرچہ وہ زانیہ کا ہی ہو- اس لئے کہ بچہ فطرت اسلام پر ہی پیدا ہوتا ہے- اس کے والدین یا صرف اس کا باپ مسلمان ہونے کا دعوی کرے اور اگر اس کی ماں اسلام پر نہ ہو تو وہ چلا کر روئے تو اس پر نماز پڑھی جائے گی اور جو چلا کر نہ روئے تو اس پر نماز نہ پڑھی جائے گی اس لئے کہ وہ ساقط ہوگیا- حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ بیان کرتے ہیں نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ اسلامی فطرت پر ہی پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی، یا مجوسی بنا لیتے ہیں جس طرح جانور صحیح سالم عضو والا بچہ جنتا ہے، کیا تم اس میں سے کوئی عضو کٹا ہوا دیکھتے ہو؟ پھر ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ یہ آیت آخر تک تلاوت کرتے ﷲ تعالی کی فطرت وہ ہے جس پر لوگوں کو پیدا کیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment