کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنازوں کا بیان
باب
جب مشرک موت کے قریب لا الہ الا اللہ کہے۔
حدیث نمبر
1272
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَائَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَالِبٍ يَا عَمِّ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کَلِمَةً أَشْهَدُ لَکَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ يَا أَبَا طَالِبٍ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ وَيَعُودَانِ بِتِلْکَ الْمَقَالَةِ حَتَّی قَالَ أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا کَلَّمَهُمْ هُوَ عَلَی مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَبَی أَنْ يَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا وَاللَّهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَکَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْکَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی فِيهِ مَا کَانَ لِلنَّبِيِّ الْآيَةَ
اسحاق، یعقوب بن ابراہیم، صالح، ابن شہاب، سعید بن مسیب، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان کے پاس رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم تشریف لائے ان کے پاس ابوجہل بن ہشام، عبدﷲ بن امیہ بن مغیرہ کو دیکھا رسول ﷲ نے ابوطالب کو خطاب کر کے کہا اے میرے چچا جان آپ ( لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ) کہہ دیجئے میں ﷲ کے نزدیک اس کلمہ کی شہادت دوں گا- ابوجہل اور عبدﷲ بن امیہ نے کہا اے ابوطالب کیا تم عبدالمطلب کے دین سے پھر جاوگے؟ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم ابوطالب کے سامنے اس کلمہ کو پیش کرتے رہے اور یہ دونوں وہی بات پھر کہتے۔ یہاں تک کہ ابوطالب نے اپنی آخری گفتگو میں جو کہا وہ یہ کہ میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں اور ( لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ) کہنے سے انکار کردیا۔رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا بخدا میں تمہارے لیے دعا مغفرت کرتارہوں گا جب تک کہ میں اس سے روکا نہ جاوں تو ﷲ تعالی نے یہ آیت (مَا کَانَ لِلنَّبِيِّ ) آخر تک نازل فرمایی۔
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment