کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
زکوۃ کا بیان
باب
اللہ تعالی کا قول کہ لوگ مجھ سے چمٹ کر نہیں مانگتے۔
حدیث نمبر
1388
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْرٍ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ صَالِحِ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَعْطَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ قَالَ فَتَرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ رَجُلًا لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ فَقُمْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ مَا لَکَ عَنْ فُلَانٍ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا قَالَ أَوْ مُسْلِمًا قَالَ فَسَکَتُّ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ فِيهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَکَ عَنْ فُلَانٍ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا قَالَ أَوْ مُسْلِمًا قَالَ فَسَکَتُّ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ فِيهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَکَ عَنْ فُلَانٍ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا قَالَ أَوْ مُسْلِمًا يَعْنِي فَقَالَ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ خَشْيَةَ أَنْ يُکَبَّ فِي النَّارِ عَلَی وَجْهِهِ وَعَنْ أَبِيهِ عَنْ صَالِحٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ بِهَذَا فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَجَمَعَ بَيْنَ عُنُقِي وَکَتِفِي ثُمَّ قَالَ أَقْبِلْ أَيْ سَعْدُ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ فَکُبْکِبُوا قُلِبُوا فَکُبُّوا مُکِبًّا أَکَبَّ الرَّجُلُ إِذَا کَانَ فِعْلُهُ غَيْرَ وَاقِعٍ عَلَی أَحَدٍ فَإِذَا وَقَعَ الْفِعْلُ قُلْتَ کَتبَّهُ اللَّهُ لِوَجْهِهِ وَکَبَبْتُهُ أَنَاقال ابوعبدالله صالح بن کيسان هواکبر من الزهری وهو قدادرک ابن عمر
محمد بن عزیذ زہری، یعقوب بن ابراہیم، ابراہیم، صالح، ابن شہاب، عامر بن سعد اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ایک جماعت کو مال دیا اور میں ان میں بیٹھا ہوا تھا تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو چھوڑ دیا اور اس کو کچھ نہ دیا حالانکہ وہی شخص مجھ کو زیادہ پسند تھا- پھر میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس گیا اور چپکے سے عرض کیا کیا بات ہے آپ نے فلاں شخص کو چھوڑ دیا وﷲ میں اسے مومن سمجھتا ہوں یا مسلمان ؟ میں تھوڑی دیر خاموش رہا پھر مجھ پر وہ چیز غالب ہوئی جو میں اس کے متعلق جانتا تھا ۔چنانچہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا بات ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کو چھوڑ دیا ،حالانکہ میں اسے مومن سمجھتا ہوں،کہا یا مسلمان میں تھوڑی دیر خاموش رہا ۔ پھر مجھ پر اس کا وہ حال غالب آیا جو اس کے متعلق جانتا تھا ،میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا بات ہے کہ فلاں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ کچھ نہ دیا حالانکہ وہ مومن ہے،یا مسلمان،تین بار اسی طرح ہوا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریاما میں ایک شخص کو دیتا ہوں حالانکہ دوسرا شخص میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے،صرف اس خوف سے دیتا ہوں کہ کہیں دوزخ میں منہ کے بل نہ گرادیا جائے ۔اور یعقوب اپنے والد سے بواسطہ صالح،اسماعیل بن محمد،محمد (بن سعد) اس حدیث کو روایت کرتے ہیں اور اپنی حدیث میں اتنا(زیادہ) کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سعد کے شانے اور گردن پر رکھ کر فرمایا اے سعد ادھر آؤ انی لا عطی (میں ایک شخص کو دیتا ہوں آخر تک ۔ابو عبداللہ (بخاری) بیان کرتے ہیں کہ کبکبوا کے معنی ہیں الٹ دیئے گئے مکبا۔ أَکَبَّ الرَّجُلُ سے ماخوذ ہے (لازم استعمال ہوتا ہے) جب اس کا فعل کسی پر واقع نہیں ہوتا اور اگر وہ فعل کسی پر واقع ہو (یعنی متعدی ہو) تو اس کو بولتے ہیں کَتبَّهُ اللَّهُ لِوَجْهِهِ وَکَبَبْتُهُ أَنَا ابوعبداللہ (بخاری) نے فرمایا کہ صالح بن کیسان زہری سے بڑے ہیں اور انہوں نے ابن عمر سے ملاقات کی ہے ۔
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment