کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
زکوۃ کا بیان
باب
کیا اپنے صدقہ کے مال کو خرید سکتا ہے؟
حدیث نمبر
1398
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا کَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ تَصَدَّقَ بِفَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَوَجَدَهُ يُبَاعُ فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهُ ثُمَّ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْمَرَهُ فَقَالَ لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِکَ فَبِذَلِکَ کَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَا يَتْرُکُ أَنْ يَبْتَاعَ شَيْئًا تَصَدَّقَ بِهِ إِلَّا جَعَلَهُ صَدَقَةً
یحیی بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب، سالم، عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی ﷲ عنہ بن خطاب نے ایک گھوڑا ﷲ کے راستے میں خیرات کیا، پھر دیکھا کہ اسے بیچا جا رہا ہے تو اسے خریدنا چاہا، پھر نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اجازت چاہی تو آپ نے فرمایا کہ اپنی خیرات کو دوبارہ واپس نہ لو، اسی سبب سے حضرت عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ جب بھی خیرات کی ہوئی چیز خریدتے تو اسے صدقہ کردیتے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment