کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
زکوۃ کا بیان
باب
مالداروں سے صدقہ لینے کا بیان اور فقراء کو دیا جائے جہاں بھی ہوں۔
حدیث نمبر
1405
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ يَحْيَی بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَی الْيَمَنِ إِنَّکَ سَتَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ کِتَابٍ فَإِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَی أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَکَ بِذَلِکَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي کُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَکَ بِذَلِکَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَی فُقَرَائِهِمْ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَکَ بِذَلِکَ فَإِيَّاکَ وَکَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ
محمد بن مقاتل، عبدﷲ ، زکریا بن اسحاق، یحیی بن عبدﷲ بن صیفی، ابومعبد (ابن عباس کے غلام) ابن عباس سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل سے جب انہیں یمن کی طرف بھیجنے لگے ان سے فرمایا کہ تم ایسی قوم کے پاس چلے جاتے ہو، جو اہل کتاب ہیں جب ان کے پاس پہنچو تو انہیں دعوت دو کہ اس بات کی شہادت دیں کہ ﷲ کے سواء کوئی معبود نہیں، اور یہ کہ محمد صلی ﷲ علیہ وسلم ﷲ کے رسول ہیں، اگر وہ مان لیں تو انہیں یہ بتاؤ کہ ﷲ نے ان پر زکوۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لی جایے گی اور وہ ان کے فقراء میں تقسیم کی جایے گی اگروہ اس کو بھی منظور کرلیں تو ان کے اچھے مال لینے سے بچو اور مظلوموں کی بد دعا سے بچو اس لیے کہ مظلوم کی بددعا اور ﷲ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہے۔
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment