کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
حج کا بیان
باب
قریب والے اور درمیانی جمرہ کے پاس دونوں ہاتھ اٹھانے کا بیان۔
حدیث نمبر
1639
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا کَانَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ الدُّنْيَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ثُمَّ يُکَبِّرُ عَلَی إِثْرِ کُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيُسْهِلُ فَيَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ قِيَامًا طَوِيلًا فَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ ثُمَّ يَرْمِي الْجَمْرَةَ الْوُسْطَی کَذَلِکَ فَيَأْخُذُ ذَاتَ الشِّمَالِ فَيُسْهِلُ وَيَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ قِيَامًا طَوِيلًا فَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ ثُمَّ يَرْمِي الْجَمْرَةَ ذَاتَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا وَيَقُولُ هَکَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ
اسمعیل بن عبدﷲ ، برادر اسمعیل(عبدالحمید) سلیمان، یونس بن یزید، ابن شہاب، سالم بن عبدﷲ سے روایت کرتے ہیں کہ عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ پہلے جمرے پر سات کنکریاں مارتے، پھر تکبیر کہتے پھر آگے بڑھتے یہاں تک کہ نرم زمین پر پہنچتے، اور قبلہ رو کھڑے ہوتے اور دیر تک کھڑے رہتے اور دعا کرتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے پھراسی طرح درمیانے جمرے کی رمی کرتے، باہیں جانب جاتے اور نرم زمین پر پہنچ کر قبلہ رو کھڑے ہوتے تو دیر تک کھڑے رہتے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرے، پھر وادی کے نچلے حصے سے جمرہ ذات عقبہ کی رمی کرتے اور وہاں پر نہ ٹھہرتے اور کہتے کہ میں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment