کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
عمرہ کا بیان
باب
تنعیم سے عمرہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
1667
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَطَائٍ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ وَلَيْسَ مَعَ أَحَدٍ مِنْهُمْ هَدْيٌ غَيْرِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَلْحَةَ وَکَانَ عَلِيٌّ قَدِمَ مِنْ الْيَمَنِ وَمَعَهُ الْهَدْيُ فَقَالَ أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِأَصْحَابِهِ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ ثُمَّ يُقَصِّرُوا وَيَحِلُّوا إِلَّا مَنْ مَعَهُ الْهَدْيُ فَقَالُوا نَنْطَلِقُ إِلَی مِنًی وَذَکَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ وَلَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ وَأَنَّ عَائِشَةَ حَاضَتْ فَنَسَکَتْ الْمَنَاسِکَ کُلَّهَا غَيْرَ أَنَّهَا لَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ قَالَ فَلَمَّا طَهُرَتْ وَطَافَتْ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنْطَلِقُونَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَنْطَلِقُ بِالْحَجِّ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَکْرٍ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا إِلَی التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ فِي ذِي الْحَجَّةِ وَأَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ لَقِيَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْعَقَبَةِ وَهُوَ يَرْمِيهَا فَقَالَ أَلَکُمْ هَذِهِ خَاصَّةً يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا بَلْ لِلْأَبَدِ
محمد بن مثنی، عبدالوہاب بن عبدالمجید، حبیب معلم، عطاء، جابر بن عبدﷲ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے حج کا احرام باندھا اور ان میں سے کسی کے پاس قربانی کا جانور نہ تھا سوائے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم اور طلحہ کے، اور علی جو یمن سے آئے تھے اور ان کے پاس قربانی کا جانور تھا انہوں نے کہا میں نے اس چیز کا احرام باندھا جس چیز کارسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے باندھا ہے اور نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو اجازت دے دی کہ وہ اس کو عمرہ بنالیں، خانہ کعبہ کا طواف کریں، پھر بال کتروائیں اور احرام سے باہر ہوجائیں، مگر نہ وہ جس کے پاس قربانی جانور ہو، لوگ کہنے لگے کیا ہم منیٰ کو جائیں اس حال میں کہ ہمارے ذکر سے منی ٹپک رہی ہو، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کو جب معلوم ہوا تو فرمایا اگر ہمیں پہلے سے وہ چیز معلوم ہوتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا اور اگر میرے پاس قربانی کا جانور نہ ہوتا تو میں احرام سے باہر ہوجاتا اور عائشہ رضی ﷲ عنہا کوحیض آگیا- تو انہوں نے تمام ارکان ادا کئے مگر یہ کہ انہوں نے کعبہ کا طواف نہیں کیا، جب وہ حیض سے پاک ہوئیں اور انہوں نے طواف کیا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم! آپ لوگ تو حج اور عمرہ کر کے واپس ہو رہے ہیں اور میں صرف حج کر کے واپس ہو رہی ہوں، تو آپ نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو حکم دیا کہ کہ ان کو لے کر مقام تنعیم کی طرف جائیں تو انہوں نے ذی الحجہ میں حج کے بعد عمرہ کیا اور سراقہ بن مالک بن جعشم نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے ملے جب عقبہ میں رمی کر رہے تھے تو انہوں نے کہا کہ یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کیایہ صرف آپ کے لئے ہے؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment