Saturday, January 1, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1793


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
روزے کا بیان
باب
اللہ بزرگ وبرتر کا فرمانا کہ تمھارے لئے روزوں کی رات میں اپنی بیویوں سے صحبت کرناحلال کر دیا گیا۔
حدیث نمبر
1793
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْبَرَائِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کَانَ الرَّجُلُ صَائِمًا فَحَضَرَ الْإِفْطَارُ فَنَامَ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَ لَمْ يَأْکُلْ لَيْلَتَهُ وَلَا يَوْمَهُ حَتَّی يُمْسِيَ وَإِنَّ قَيْسَ بْنَ صِرْمَةَ الْأَنْصَارِيَّ کَانَ صَائِمًا فَلَمَّا حَضَرَ الْإِفْطَارُ أَتَی امْرَأَتَهُ فَقَالَ لَهَا أَعِنْدَکِ طَعَامٌ قَالَتْ لَا وَلَکِنْ أَنْطَلِقُ فَأَطْلُبُ لَکَ وَکَانَ يَوْمَهُ يَعْمَلُ فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ فَجَائَتْهُ امْرَأَتُهُ فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ خَيْبَةً لَکَ فَلَمَّا انْتَصَفَ النَّهَارُ غُشِيَ عَلَيْهِ فَذُکِرَ ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ أُحِلَّ لَکُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَی نِسَائِکُمْ فَفَرِحُوا بِهَا فَرَحًا شَدِيدًا وَنَزَلَتْ وَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی يَتَبَيَّنَ لَکُمْ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنْ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ
عبیدﷲ بن موسی، اسرائیل، ابواسحق، براء روایت کرتے ہیں کہ محمد صلی ﷲ علیہ وسلم کے صحابہ میں جب کوئی روزہ دار ہوتا اور افطار کا وقت آتا اور افطار سے پہلے سو جاتا تو نہ اس رات کو کھاتا اور نہ دن کو یہاں تک کہ شام ہوجاتی، قیس بن صرمہ انصاری ایک بار روزے سے تھے جب افطار کا وقت آیا تو اپنی بیوی کے پاس آئے اور پوچھا کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ بیوی نے جواب دیا نہیں، لیکن میں جاتی ہوں اور تمہارے لئے ڈھونڈ کر لاتی ہوں اس زمانہ میں یہ مزدوری کرتے تھے چناچہ ان کی آنکھ پر نیند کا غلبہ ہوا اور سو گئے جب بیوی نے ان کو دیکھا تو کہا تجھ پر افسوس ہے، جب دوسرے دن دوپہر کا وقت آیا تو بیہوش ہوگئے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا گیا تو یہ آیت اتری کہ روزوں کی رات میں تمہارے لئے اپنی بیویوں سے صحبت کرنا حلال کردیا گیا، صحابہ اس سے بہت خوش ہوئے اور یہ آیت اتری کھاتے پیتے رہو، جب تک کہ سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے تم پر کھل نہ جائے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment