Saturday, January 1, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1849


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
روزے کا بیان
باب
روزے میں جسم کے حق کا بیان۔
حدیث نمبر
1849
حَدَّثَنَا ا بْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّکَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ فَقُلْتُ بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَلَا تَفْعَلْ صُمْ وَأَفْطِرْ وَقُمْ وَنَمْ فَإِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَإِنَّ لِعَيْنِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَإِنَّ لِزَوْجِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَإِنَّ لِزَوْرِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَإِنَّ بِحَسْبِکَ أَنْ تَصُومَ کُلَّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنَّ لَکَ بِکُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا فَإِنَّ ذَلِکَ صِيَامُ الدَّهْرِ کُلِّهِ فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ فَصُمْ صِيَامَ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام وَلَا تَزِدْ عَلَيْهِ قُلْتُ وَمَا کَانَ صِيَامُ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ نِصْفَ الدَّهْرِ فَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ بَعْدَ مَا کَبِرَ يَا لَيْتَنِي قَبِلْتُ رُخْصَةَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابن مقاتل، عبدﷲ ، اوزاعی، یحیی بن ابی کثیر، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، عبدﷲ بن عمرو بن عاص سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عبدﷲ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم دن کو روزہ رکھتے ہو اور رات کو کھڑے ہو جاتے ہو- میں نے کہا ہاں یا رسول ﷲ! آپ نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو، روزے بھی رکھو، اور افطار بھی کرو- نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہو تو رات کو سویا بھی کرو، اس لئے کہ تمہارے بدن کا تم پر حق ہے اور تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے اور تمہارے لئے ہر مہینہ میں تین دن روزہ رکھنا کافی ہے- ہر نیکی کے بدلے اس کا دس گنا اجر ملتا ہے تو گویا ساری عمر روزے سے رہا، میں نے اپنے اوپر سختی کرنی چاہی تو سختی کی گئی میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ! میں اپنے اندر اس کی قوت پاتا ہوں- آپ نے فرمایا کہ ﷲ کے نبی داؤد علیہ السلام کے روزے کی طرح روزے رکھو اس پر زیادتی نہ کرو میں نے پوچھا ﷲ کے نبی داؤد علیہ السلام کا روزہ کیسا ہوتا تھا؟ آپ نے فرمایا ایک دن روزہ رکھتے تو دوسرے دن افطار کرتے۔ عبدﷲ جب بوڑھے ہو گئے تو کہتے کہ کاش میں نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی رخصت کو قبول کر لیتا۔



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment