کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
روزے کا بیان
باب
اس کا بیان جو کسی کی ملاقات کو جائے اور وہاں اپنا روزہ نفلی نہ توڑے۔
حدیث نمبر
1856
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَ حَدَّثَنِي خَالِدٌ هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی أُمِّ سُلَيْمٍ فَأَتَتْهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ قَالَ أَعِيدُوا سَمْنَکُمْ فِي سِقَائِهِ وَتَمْرَکُمْ فِي وِعَائِهِ فَإِنِّي صَائِمٌ ثُمَّ قَامَ إِلَی نَاحِيَةٍ مِنْ الْبَيْتِ فَصَلَّی غَيْرَ الْمَکْتُوبَةِ فَدَعَا لِأُمِّ سُلَيْمٍ وَأَهْلِ بَيْتِهَا فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي خُوَيْصَّةً قَالَ مَا هِيَ قَالَتْ خَادِمُکَ أَنَسٌ فَمَا تَرَکَ خَيْرَ آخِرَةٍ وَلَا دُنْيَا إِلَّا دَعَا لِي بِهِ قَالَ اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ مَالًا وَوَلَدًا وَبَارِکْ لَهُ فِيهِ فَإِنِّي لَمِنْ أَکْثَرِ الْأَنْصَارِ مَالًا وَحَدَّثَتْنِي ابْنَتِي أُمَيْنَةُ أَنَّهُ دُفِنَ لِصُلْبِي مَقْدَمَ حَجَّاجٍ الْبَصْرَةَ بِضْعٌ وَعِشْرُونَ وَمِائَةٌ
محمد بن مثنیٰ، خالد بن حارث، حمید، انس رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم ام سلیم کے پاس تشریف لائے، وہ آپ کے پاس کجھور اور گھی لے کر آئیں- آپ نے فرمایا کہ گھی اور کھجوریں اس کے برتنوں میں رکھو- اس لئے کہ میں تو روزہ دار ہوں- پھر گھر کے ایک گوشے میں کھڑے ہوئے اور فرض کے سوا یعنی نفل نماز پڑھی- ام سلیم اور ان کے گھر والوں کے لئے دعا فرمائی، ام سلیم نے عرض کیا یا رسول ﷲ صرف میرے لئے ہی دعا فرمائی؟ آپ نے فرمایا کہ اور کیا- ام سلیم نے عرض کیا آپ کے خادم انس کے لئے بھی دعا کریں- آپ نے دنیا اور آخرت کی کوئی بھلائی نہ چھوڑی جس کی دعا نہ فرمائی ہو، آپ نے فرمایا اے میرے ﷲ اس کو مال اور اولاد عطا کر اور اس کو برکت عطا کر، انس کا بیان ہے کہ میں انصار سے زیادہ مال دار ہوں اور مجھ سے میری بیٹی امینہ نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ حجاج کے بصرہ آنے کے وقت تک میری نسل سے ایک سو بیس سے کچھ زیادہ بچے دفن ہوچکے تھے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment