Sunday, January 2, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1917


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
خرید و فروخت کا بیان
باب
اللہ تعالی کا قول کہ جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاو
حدیث نمبر
1917
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ آخَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنِي وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ الرَّبِيعِ إِنِّي أَکْثَرُ الْأَنْصَارِ مَالًا فَأَقْسِمُ لَکَ نِصْفَ مَالِي وَانْظُرْ أَيَّ زَوْجَتَيَّ هَوِيتَ نَزَلْتُ لَکَ عَنْهَا فَإِذَا حَلَّتْ تَزَوَّجْتَهَا قَالَ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لَا حَاجَةَ لِي فِي ذَلِکَ هَلْ مِنْ سُوقٍ فِيهِ تِجَارَةٌ قَالَ سُوقُ قَيْنُقَاعٍ قَالَ فَغَدَا إِلَيْهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَأَتَی بِأَقِطٍ وَسَمْنٍ قَالَ ثُمَّ تَابَعَ الْغُدُوَّ فَمَا لَبِثَ أَنْ جَائَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَلَيْهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجْتَ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَمَنْ قَالَ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ کَمْ سُقْتَ قَالَ زِنَةَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ
عبدالعزیز بن عبدﷲ ، ابراہیم بن سعد اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں حضرت عبدالرحمن بن عوف نے بیان کیا کہ جب ہم مدینہ آئے تو رسول ﷲ نے میرے اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ کر دیا، سعد بن ربیع نے کہا میں انصار میں زیادہ مالدار ہوں اس لئے میں اپنا آدھا مال تجھ کو دیتا ہوں اور دیکھ لو میری جو بیوی تمہیں پسند آئے میں اس کو تمہارے لئے چھوڑ دوں، جب وہ عدت سے فارغ ہو جائے تو تم اس سے نکاح کر لو، عبدالرحمن نے کہا مجھے اس کی ضرورت نہیں یہاں کوئی بازار ہے جہاں تجارت ہوتی ہے، انہوں نے کہا قینقاع کا بازار ہے چناچہ عبدالرحمن وہاں گئے اور پنیر و گھی لے کر آئے پھر برابر صبح کو جانے لگے کچھ دن ہی گزرے، تو عبدالرحمن اس حال میں آئے کہ ان پر زردی کا اثر تھا، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے شادی کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں! آپ نے پوچھا کس سے؟ کہا کہ ایک انصاری عورت سے، آپ نے پوچھا، مہر کتنا دیا، کہا کہ گھٹلی کے برابر سونا، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ولیمہ کرو، اگرچہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment