Sunday, January 2, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:1920


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
خرید و فروخت کا بیان
باب
حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان مشتبہ چیزیں ہیں۔
حدیث نمبر
1920
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا أَبُو فَرْوَةَ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي فَرْوَةَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي فَرْوَةَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ فَمَنْ تَرَکَ مَا شُبِّهَ عَلَيْهِ مِنْ الْإِثْمِ کَانَ لِمَا اسْتَبَانَ أَتْرَکَ وَمَنْ اجْتَرَأَ عَلَی مَا يَشُکُّ فِيهِ مِنْ الْإِثْمِ أَوْشَکَ أَنْ يُوَاقِعَ مَا اسْتَبَانَ وَالْمَعَاصِي حِمَی اللَّهِ مَنْ يَرْتَعْ حَوْلَ الْحِمَی يُوشِکُ أَنْ يُوَاقِعَهُ
محمد بن مثنیٰ، ابن ابی عدی، ابن عون، شعبی، نعمان بن بشیر، ح، (دوسری سند) علی بن عبدﷲ ، ابن عینیہ، ابوفردہ، شعبی (تیسری سند) عبد اللہ بن محمد، ابن عینیہ، ابوفردہ، شعبی، نعمان بن بشیر، ح، (چوتھی سند) محمد بن کثیر، سفیان ابوفردہ، شعبی، نعمان بن بشیر سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حلال بھی کھلا ہوا ہے اور حرام ظاہر ہے ان کے درمیا ن چند امور مشتبہ ہیں، چناچہ جس نے اس چیز کو چھوڑ دیا جس کے گناہ ہونے کاشبہ ہو تو وہ اس کو بھی چھوڑ دے گا جو صاف گناہ ہے اور جس نے ایسے کام کرنے کی جرات کی جس کے گناہ ہو نے کا شک ہو تو ہو کھلے ہو ئے گناہ میں مبتلا ہو جائے گا اور گناہ اللہ تعالیٰ کے چرا گاہیں ہیں، جو شخص چرا گاہ کے ارد گرد جانور چرائے تو قریب ہے کہ اس چراگاہ میں داخل ہوجائے۔



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment