کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
خرید و فروخت کا بیان
باب
جس اونٹ کو استسقاء کا مرض ہوگیا ہو یاخارشی اونٹ کی خرید وفروخت کا بیان
حدیث نمبر
1966
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ قَالَ عَمْرٌو کَانَ هَا هُنَا رَجُلٌ اسْمُهُ نَوَّاسٌ وَکَانَتْ عِنْدَهُ إِبِلٌ هِيمٌ فَذَهَبَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَاشْتَرَی تِلْکَ الْإِبِلَ مِنْ شَرِيکٍ لَهُ فَجَائَ إِلَيْهِ شَرِيکُهُ فَقَالَ بِعْنَا تِلْکَ الْإِبِلَ فَقَالَ مِمَّنْ بِعْتَهَا قَالَ مِنْ شَيْخٍ کَذَا وَکَذَا فَقَالَ وَيْحَکَ ذَاکَ وَاللَّهِ ابْنُ عُمَرَ فَجَائَهُ فَقَالَ إِنَّ شَرِيکِي بَاعَکَ إِبِلًا هِيمًا وَلَمْ يَعْرِفْکَ قَالَ فَاسْتَقْهَا قَالَ فَلَمَّا ذَهَبَ يَسْتَاقُهَا فَقَالَ دَعْهَا رَضِينَا بِقَضَائِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا عَدْوَی سَمِعَ سُفْيَانُ عَمْرًا
علی، سفیان، عمرو بیان کرتے ہیں کہ یہان ایک شخص تھا جس کا نام نواس تھا اور اس کے پاس اونٹ تھاجس کو استسقاء کا مرض تھا ابن عمر رضی ﷲ عنہ گئے اور اس کے شریک آیا اور کہا کہ ہم نے وہ اونٹ بیچ دیا اس نے پوچھا کہ کس کے ہاتھ بیچا؟ اس نے کہا فلاں فلاں شکل و صورت کے ایک بڈھے کے ہاتھ بیچا ہے جس کو استسقاء کا مرض ہے اور اس نے آپ کو بتایا نہیں، انہوں نے کہا اس کو ہانک کر لے جا تو جب وہ ہانک کر جانے لگا تو انہوں نے کہا اس کو چھوڑدے ہم رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے اس فیصلہ پر راضی ہیں کہ عدوی (یعنی چھوت) کوئی چیز نہیں اور سفیان نے عمر سے سنا ہے۔
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment