کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
شفعہ کا بیان
باب
کیا دارالحرب میں کسی مشرک کی مزدوری کوئی مسلمان کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر
2126
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ حَدَّثَنَا خَبَّابٌ قَالَ کُنْتُ رَجُلًا قَيْنًا فَعَمِلْتُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ فَاجْتَمَعَ لِي عِنْدَهُ فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ لَا أَقْضِيکَ حَتَّی تَکْفُرَ بِمُحَمَّدٍ فَقُلْتُ أَمَا وَاللَّهِ حَتَّی تَمُوتَ ثُمَّ تُبْعَثَ فَلَا قَالَ وَإِنِّي لَمَيِّتٌ ثُمَّ مَبْعُوثٌ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّهُ سَيَکُونُ لِي ثَمَّ مَالٌ وَوَلَدٌ فَأَقْضِيکَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی أَفَرَأَيْتَ الَّذِي کَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا
عمرو بن حفص، حفص، اعمش، مسلم، مسروق، خباب، کہتے ہیں کہ میں ایک لوہار تھا میں نے عاص بن وائل کا کام کیا تو میری مزدوری اس کے پاس جمع ہو گئی میں اس کے پاس تقاضا کرنے گیا تو اس نے کہا بخدا میں تجھے نہ دوں گا جب تک تو محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا انکار نہ کرے میں نے جواب دیا خدا کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا یہاں تک کہ تو مر جائے پھر اٹھایا جائے اس نے کہا کیا میں مرنے کے بعد زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا میں نے کہا ہاں اس نے کہا تو اس وقت میرے پاس مال و اولاد بھی ہو گی تو میں اسی وقت تمہارا قرض ادا کروں گا چناچہ یہ آیت نازل ہوئی اے پیغمبر کیا آپ نے اس کو دیکھا جس نے میری نشانیوں کا انکار کیا اور کہا کہ میں مال و اولاد دیا جاؤں گا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment